Laa yastawil qaa`idoona Minal mu`mineena ghairu ulid darari walmujaahidoona fee sabeelil laahi bi amwaalihim wa anfusihim; faddalal laahul mujaahideena bi amwaalihim wa anfusihim; faddalal laahul mujaahideena bi am waalihim wa anfusihim `alalqaa`ideena darajab; wa kullanw wa`adal laahul husnaa; wa faddalal laahul mujaahideena `alal qaa`ideena ajran `azeemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مؤمنانى كه بىهيچ رنج و آسيبى از جنگ سر مىتابند با كسانى كه به مال و جان خويش در راه خدا جهاد مىكنند برابر نيستند. خدا كسانى را كه به مال و جان خويش جهاد مىكنند بر آنان كه از جنگ سر مىتابند به درجتى برترى داده است. و خدا همه را وعدههاى نيكو داده است. و جهادكنندگان را بر آنها كه از جهاد سر مىتابند به مزدى بزرگ برترى نهاده است.
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
المجاهدون: وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے لڑتے ہیں۔
درجة: ایک بلند مرتبہ اور فضیلت۔
الحسنى: جنت اور بہترین اجر۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں جہاد کی اہمیت اور اس کے اجر و ثواب کو واضح فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومنوں میں سے وہ لوگ جو جہاد سے پیچھے رہتے ہیں، بغیر کسی عذر کے، اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ البتہ جن لوگوں کے پاس واقعی کوئی عذر ہو، جیسے بیماری، اندھا پن، یا جسمانی معذوری، تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اور ان پر کوئی الزام نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کو جو اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، ان لوگوں پر جو معذور ہونے کی وجہ سے جہاد نہیں کر سکتے، ایک درجہ فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یہ فضیلت اس لیے ہے کہ مجاہد اپنی نیت کے ساتھ عملی طور پر بھی اللہ کی راہ میں سرگرم ہے، جبکہ معذور صرف نیت پر اکتفا کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں گروہوں سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ مجاہد کو اس کی محنت اور قربانی کا اجر ملے گا، اور معذور کو اس کی نیت اور صبر کا ثواب ملے گا۔ لیکن مجاہدین کا اجر بہت عظیم ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درجات ان کے اعمال اور نیتوں کے مطابق بلند فرماتا ہے۔ جہاد صرف جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا، اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اور اپنے وقت اور صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں لگانا بھی جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اپنا سب کچھ لگا دے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کریں، اپنے علم، مال، وقت اور محنت کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کریں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ اپنے مجاہدین کو کبھی ناامید نہیں کرتا۔ جو لوگ معذور ہیں، ان کے لیے بھی اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے، بشرطیکہ وہ اپنی نیتوں کو درست رکھیں اور دل سے اللہ کی راہ میں نکلنے کی خواہش رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں حقیقی مجاہد بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔