وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ: آن نظر جو چوری چھپے سے کی جائے، یعنی وہ نگاہ جو حرام چیز کی طرف بطورِ خیانت ڈالی جائے۔
مَا تُخْفِي الصُّدُورُ: وہ باتیں جو سینوں میں چھپی ہوں، یعنی دلوں کے چھپے ہوئے ارادے، نیتیں اور بھید۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام ظاہری اور باطنی اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔ وہ ان نظروں کو جانتا ہے جو چوری چھپے سے ڈالی جاتی ہیں، خواہ وہ کسی حرام چیز کی طرف ہوں یا کسی برے ارادے کے ساتھ۔ نیز وہ ان تمام باتوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں چھپی ہوئی ہیں، خواہ وہ خیر ہو یا شر، نیکی ہو یا بدی۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ آنکھوں کی جنبش، نہ دلوں کا ارادہ، نہ سینوں کا راز۔ یہ آیت مومن کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن دونوں کو سنوارے، کیونکہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظیم صفتِ علم کا ذکر ہے، جو ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ ہم کبھی بھی اللہ کی نظر سے اوجھل نہیں ہیں۔ جب ہمیں یہ یقین ہو کہ اللہ ہماری آنکھوں کی چوری اور دلوں کے چھپے راز تک جانتا ہے، تو ہم اپنے اعمال میں احتیاط کریں گے، اپنی نگاہوں کو حرام سے بچائیں گے اور اپنے دلوں کو پاک رکھیں گے۔ یہی تقویٰ اور پرہیزگاری ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور اس کی رحمت کا باعث بنتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا علم ہمارے لیے رحمت ہے، کیونکہ وہ ہماری پوشیدہ نیکیوں کو بھی دیکھتا ہے اور ان کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔