شوری · 39/53
ترجمہ تلفظ — شوری
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ ۝٣٩
Wallazeena izaa asaabahumul baghyu hum yantasiroon
📖 اردو ترجمہ
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • البَغْيُ: ظلم، زیادتی، ناحق حملہ
  • یَنتَصِرُونَ: بدلہ لیتے ہیں، اپنا حق واپس لیتے ہیں، ظالم کے خلاف مدافعت کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے برگزیدہ بندوں کی ایک اور خوبی بیان فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر جب کوئی ظلم یا زیادتی کی جاتی ہے، تو وہ بے بس اور لاچار نہیں ہوتے، نہ ہی وہ ذلت و رسوائی کو قبول کرتے ہیں، بلکہ وہ اپنے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور اپنا حق حاصل کرتے ہیں۔

یہ انتقام یا بدلہ لینا کسی حد سے تجاوز کرنے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ صرف ظلم کو روکنے اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہوتا ہے۔ وہ ظالم پر اتنا ہی سختی کرتے ہیں جتنا ظلم ان پر کیا گیا، اس سے زیادہ نہیں بڑھتے۔ یہ انتصاف (انصاف لینا) اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک حق ہے، کیونکہ مظلوم کو ظالم کے سامنے خاموش رہنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ اسے اپنے دفاع اور حق کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے۔

یہ خوبی دراصل مومن کی عزت نفس اور خودداری کا مظہر ہے۔ مومن وہ ہے جو ظلم برداشت کرنے والا نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والا ہے۔ وہ اپنے دین، اپنی عزت، اپنے مال اور اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر وہ دیکھے کہ معاف کرنے میں کوئی بہتری ہے، تو معاف کر دے، لیکن اگر معاف کرنے سے ظالم اور زیادہ جری ہو جائے گا، تو پھر وہ اپنا حق لینے میں کوئی تردد نہیں کرتا۔

یاد رکھیں! یہ انتقام یا بدلہ لینا محض ذاتی انتقام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اللہ کی حدود کی حفاظت اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ جب کوئی شخص ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے لیے انصاف لیتا ہے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی راہ ہموار کرتا ہے کہ ظالم کو معلوم ہو جائے کہ ظلم کا انجام برا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ مومن صرف معاف کرنے والے ہیں، بلکہ فرمایا کہ وہ انتقام بھی لیتے ہیں، لیکن انصاف کی حد تک۔ یہ توازن اسلام کا حسن ہے کہ وہ نہ تو ظلم برداشت کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی حد سے تجاوز کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! آج کے اس پر فتن دور میں جہاں ظلم و استبداد عام ہے، ہمیں یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہم مظلوم بن کر نہ رہیں، بلکہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارا مقصد صرف انصاف کا قیام ہو، نہ کہ ذاتی انتقام۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس خوبی سے نوازیں اور ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 37-41 — شوری

37وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
38وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
39وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
40وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
41وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
39آیت

ترجمہ — شوری 39

سورہ شوری آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی…

سورہ آیت 39/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں