Wa kazaalika awhainaaa llaika Qur-aanan `Arabiyyal litunzir aUmmal Quraa wa man hawlahaa wa tunzira Yawmal Jam`ilaa raiba feeh; fareequn fil jannati wa fareequn fissa`eer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و نيز اين قرآن را به زبان عربى بر تو وحى كرديم تا امالقرى و ساكنان اطرافش را بيم دهى. همچنين آنان را از روز قيامت -كه در آن ترديدى نيست- بترسانى كه گروهى در بهشتند و گروهى در آتش سوزان.
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُمَّ الْقُرَىٰ: یعنی "بستیوں کی ماں"، مراد مکہ مکرمہ ہے۔
یَوْمَ الْجَمْعِ: یعنی "جمع ہونے کا دن"، یہ قیامت کا دن ہے جب پہلے اور آخر سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔
السَّعِيرِ: یعنی "بھڑکتی ہوئی آگ"، مراد دوزخ کی آگ ہے۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! جس طرح ہم نے آپ سے پہلے اپنے انبیاء علیہم السلام پر واضح اور روشن وحی نازل فرمائی، اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی عربی زبان میں قرآن نازل فرمایا۔ یہ قرآن عربی میں اس لیے نازل کیا گیا تاکہ آپ اہلِ مکہ اور ان کے گرد و نواح کے لوگوں کو ڈر سنائیں، اور پھر یہی پیغام تمام انسانوں تک پہنچے۔ مکہ کو "ام القریٰ" اس لیے کہا گیا کہ وہ تمام بستیوں کی اصل اور مرکز ہے، اور اس کے ارد گرد کے علاقے عرب کے مختلف قبائل تھے، لیکن آپ کی رسالت عام ہے، اس لیے آپ کا انذار تمام دنیا کے لوگوں کے لیے ہے۔
آپ کا دوسرا کام لوگوں کو "یوم الجمع" سے ڈرانا ہے، یعنی اس دن سے خبردار کرنا جب اللہ تعالیٰ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا۔ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں، یہ یقینی طور پر آئے گا، چاہے کافر اس کا انکار کریں۔ اس دن لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ جنت میں جائے گا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر ایمان لایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کیا۔ دوسرا گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائے گا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے رسول کی دعوت کو رد کر دیا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن مجید اللہ کا آخری پیغام ہے جو عربی زبان میں نازل ہوا تاکہ ہر دور کے لوگ اسے سمجھ سکیں اور اس پر عمل کریں۔ اللہ نے اپنے محبوب رسول کو دو اہم ذمہ داریاں دیں: ایک لوگوں کو خوشخبری دینا اور دوسرا انہیں قیامت کے دن سے ڈرانا۔ آج ہم پر بھی یہ فرض ہے کہ اس قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ یاد رکھیں، قیامت کا دن یقینی ہے، اور اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ آئیے ہم اس دن کی تیاری کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نیک اعمال کریں اور گناہوں سے بچیں، تاکہ ہم ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جو جنت میں داخل ہوں گے، نہ کہ ان بدقسمت لوگوں میں جو دوزخ کی آگ کا شکار ہوں گے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔