زخرف · 25/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ۝٢٥
Fantaqamnaa minhum fanzur kaifa kaana `aaqibatul mukazzibeen
📖 اردو ترجمہ
تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ: ہم نے ان سے بدلہ لیا، یعنی انہیں عذاب میں مبتلا کیا۔
  • عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ: جھٹلانے والوں کا انجام، یعنی ان کا انجامِ کار۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو اُن قوموں کا انجام دکھا رہے ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ حق کو قبول کرنے اور اپنے رسولوں کی اطاعت کرنے سے انکار کر بیٹھے، تو ہم نے ان سے بدلہ لیا۔ یہ بدلہ کس طرح تھا؟ کبھی انہیں زمین میں دھنسا دیا گیا، کبھی طوفان میں غرق کر دیا گیا، کبھی آندھی اور پتھروں کی بارش سے ہلاک کیا گیا، اور کبھی چیخنے والے عذاب نے انہیں آ لیا۔ یہ سب اُن کے کفر اور تکذیب کا نتیجہ تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَانظُرْ" یعنی اے نبی! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا؟ یہ صرف ماضی کی خبر نہیں بلکہ ایک سبق اور عبرت ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ کسی زمانے میں ہوں۔ اس میں قریشِ مکہ کے لیے بھی ایک واضح تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلانے اور حق سے منہ موڑنے پر اصرار کیا، تو انہیں بھی وہی انجام بھگتنا پڑے گا جو پہلے جھٹلانے والوں کا ہوا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں، قومِ نوح، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط اور فرعون جیسی طاقتور قومیں آج کہاں ہیں؟ ان کی سلطنتیں، ان کے محل، ان کے خزانے — سب کچھ نیست و نابود ہو گیا۔ یہ سب اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور حق کو قبول نہ کیا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو تھامیں، قرآن کو اپنا راہنما بنائیں، اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہیں، توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتے ہیں، لیکن جو سرکشی اور تکذیب پر اڑے رہیں، ان کے لیے اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اپنے رب کی اطاعت میں زندگی گزاریں تاکہ ہم بھی اُن برے انجام سے محفوظ رہیں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔



📜 آیت 23-27 — زخرف

23وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ
اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں
24۞ قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكُم بِأَهْدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ ۖ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ
پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
25فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
26وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
27إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ
ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
25آیت

ترجمہ — زخرف 25

سورہ زخرف آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو…

سورہ آیت 25/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں