کافرون: انکار کرنے والے، ماننے سے انکار کرنے والے۔
تفسیر:
جب ان مشرکین کے پاس حق یعنی قرآن کریم آیا، جو ان کی غفلت اور کفر کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا تھا، تو انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے اس سے بھی بدتر رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا: "یہ تو محض جادو ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم پر کر رہے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ وحی نہیں ہے۔" اور انہوں نے اس پر ایمان لانے سے صاف انکار کر دیا۔
یہ ان کی انتہائی جہالت اور ضد کا ثبوت تھا کہ جب ان کے پاس واضح حق آیا، تو انہوں نے اسے سحر اور جادو قرار دے کر رد کر دیا۔ انہوں نے اپنے شرک پر قائم رہتے ہوئے حق کی معاندت کی، قرآن کو حقیر جانا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان جب ضد اور تکبر پر اڑ جاتا ہے، تو حق اس کے سامنے واضح ہونے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کرنے میں جلدی کریں، اور جب ہمارے پاس قرآن جیسی روشن کتاب آئے، تو اسے دل کھول کر قبول کریں۔ قرآن وہ کتاب ہے جو ہمیں جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لاتی ہے، اور یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ آئیے ہم ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جو حق کو دیکھ کر بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، بلکہ ہم حق کو قبول کر کے دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کریں۔
کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔