ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَوْلَا: کیوں نہیں، ہلا
- نُزِّلَ: اتارا جاتا
- الْقَرْيَتَيْنِ: دو بستیوں (مکہ اور طائف)
- عَظِيم: بڑا آدمی، معزز شخص
تفسیر:
یہ آیت مشرکینِ مکہ کی اس گستاخانہ اور بے جا تجویز کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بارے میں پیش کی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توحید کا پیغام دیا اور قرآن کی آیات سنائیں تو انہوں نے تعصب اور تکبر کی بنا پر یہ کہا کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو پھر اسے ایسے شخص پر کیوں نہیں اتارا گیا جو مکہ یا طائف کا کوئی بڑا، مالدار اور بااثر آدمی ہوتا؟ ان کا اشارہ مکہ کے ولید بن مغیرہ اور طائف کے عروہ بن مسعود ثقفی کی طرف تھا۔
یہ بات دراصل ان کے جاہلانہ معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبوت کا معیار مال، جاہ اور دنیاوی مرتبہ ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور پیغام کو جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ اللہ کا انتخاب اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کی خواہشات پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ دنیاوی لحاظ سے یتیم اور غریب تھے، لیکن اللہ نے آپ کو سب سے افضل، سب سے پاکیزہ اور سب سے زیادہ قابلِ اعتماد شخصیت بنا کر منتخب فرمایا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے دنیاوی معیار نہیں دیکھے جاتے، بلکہ صدق اور سچائی کو دیکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایسی عظیم سیرت اور اخلاق سے نوازا تھا کہ آپ کو "صادق" اور "امین" کہا جاتا تھا، یہاں تک کہ مخالفین بھی آپ کی سچائی کے قائل تھے۔
آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کرتے وقت یہ نہ دیکھیں کہ حق کہنے والا کتنا بڑا یا چھوٹا ہے، بلکہ یہ دیکھیں کہ بات کتنی سچی اور دلائل پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ایسا معجزہ بنایا ہے جو قیامت تک کے لیے سب کے لیے چیلنج ہے، اور یہی اس کے اعجاز کی دلیل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
📜 آیت 29-33 — زخرف
ترجمہ — زخرف 31
سورہ زخرف آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں…سورہ آیت 31/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








