ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیت: معجزہ، نشانی، دلیل
- أُخْتِهَا: اس کی ہمشکل (یعنی پہلی معجزہ)
- أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ: ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا
- لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ: تاکہ وہ (اپنے کفر سے) باز آ جائیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ اپنے معاملے کا ذکر فرمایا ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں توحید اور حق کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جو جو معجزے دکھائے، وہ پچھلے معجزے سے بڑھ کر اور زیادہ واضح تھے۔ چنانچہ عصا کا سانپ بننا، ید بیضا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون جیسے معجزات یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتے رہے، اور ہر معجزہ پہلے سے زیادہ قوی دلیل اور واضح نشانی تھا۔
مگر اس کے باوجود فرعون اور اس کے سرداروں نے ایمان نہ لایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا — کبھی قحط اور خشک سالی، کبھی طوفان، کبھی ٹڈیوں کی بھیڑ، کبھی جوؤں اور مینڈکوں کی وبا — تاکہ وہ اپنے کفر اور سرکشی سے باز آئیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ لیکن جب عذاب آتا تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر التجا کرتے کہ ہمارے لیے دعا کریں، مگر جب عذاب ٹل جاتا تو پھر اپنی ضد اور سرکشی پر اڑ جاتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ وہ عذاب اس لیے بھیجتا ہے تاکہ بندے اس کی طرف رجوع کریں، نہ کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور ڈراتا ہے تاکہ ہم اپنی غلطیوں سے توبہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ جب بھی کوئی مصیبت یا آزمائش آئے، ہم فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے رب کے حضور جھک جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہماری بھلائی چاہتا ہے، لیکن ہمیں خود اپنے دل کی سختی اور غفلت سے بچنا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کی نشانیاں اور ہدایت ہمارے سامنے ہیں، ہمیں بس آنکھیں کھول کر دیکھنا اور دل سے قبول کرنا ہے۔
📜 آیت 46-50 — زخرف
ترجمہ — زخرف 48
سورہ زخرف آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری…سورہ آیت 48/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








