زخرف · 52/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ۝٥٢
Am ana khairum min haazal lazee huwa maheenunw wa laa yuakaadu yubeen
📖 اردو ترجمہ
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ

معانی الفاظ:

  • مَهِین: کمزور، ذلیل، بے عزت اور حقیر
  • لَا یَکَادُ یُبِین: بولنے سے قریب نہیں ہوتا، یعنی بات صاف نہیں کر پاتا، زبان میں لکنت ہے

تفسیر:

فرعون نے اپنی قوم کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ کہہ کر انہیں حقیر دکھانے کی کوشش کی کہ "کیا میں اس سے بہتر نہیں جو کمزور اور ذلیل ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا؟" فرعون کا یہ کہنا اس کے کفر، تکبر اور عناد کا نتیجہ تھا۔ وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کو ایک کمزور شخص قرار دے رہا تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ کی زبان کی لکنت کا مذاق اڑایا، حالانکہ یہ لکنت انہیں بچپن میں آگ کے انگارے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ فرعون کا اصل مقصد لوگوں کو راہِ حق سے روکنا اور اپنی بادشاہت کو برقرار رکھنا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ مال، اقتدار اور شان و شوکت ہی اصل برتری ہے، لیکن وہ بھول گیا کہ اللہ کے نزدیک عزت تقویٰ اور ایمان سے ہے، نہ کہ دنیاوی جاہ و جلال سے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیاوی مال و مقام اور ظاہری خوبصورتی کسی کی حقیقی عزت کا معیار نہیں ہے۔ فرعون جیسے ظالم بادشاہ نے اپنی سلطنت اور خزانوں پر گھمنڈ کیا، لیکن آج اس کا نام تک لوگ لعنت کے ساتھ لیتے ہیں، جبکہ موسیٰ علیہ السلام کا نام عزت اور محبت سے لیا جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں وہی شخص بڑا ہے جو ایمان اور عملِ صالح رکھتا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو اس کی ظاہری حالت کی بنا پر حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو" (الحجرات: 13



📜 آیت 50-54 — زخرف

50فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے
51وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
52أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
53فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ
تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے
54فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — زخرف 52

سورہ زخرف آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا…

سورہ آیت 52/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں