ترجمہ — Tafsir
أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ
معانی الفاظ:
- مَهِین: کمزور، ذلیل، بے عزت اور حقیر
- لَا یَکَادُ یُبِین: بولنے سے قریب نہیں ہوتا، یعنی بات صاف نہیں کر پاتا، زبان میں لکنت ہے
تفسیر:
فرعون نے اپنی قوم کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ کہہ کر انہیں حقیر دکھانے کی کوشش کی کہ "کیا میں اس سے بہتر نہیں جو کمزور اور ذلیل ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا؟" فرعون کا یہ کہنا اس کے کفر، تکبر اور عناد کا نتیجہ تھا۔ وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کو ایک کمزور شخص قرار دے رہا تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ کی زبان کی لکنت کا مذاق اڑایا، حالانکہ یہ لکنت انہیں بچپن میں آگ کے انگارے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ فرعون کا اصل مقصد لوگوں کو راہِ حق سے روکنا اور اپنی بادشاہت کو برقرار رکھنا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ مال، اقتدار اور شان و شوکت ہی اصل برتری ہے، لیکن وہ بھول گیا کہ اللہ کے نزدیک عزت تقویٰ اور ایمان سے ہے، نہ کہ دنیاوی جاہ و جلال سے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیاوی مال و مقام اور ظاہری خوبصورتی کسی کی حقیقی عزت کا معیار نہیں ہے۔ فرعون جیسے ظالم بادشاہ نے اپنی سلطنت اور خزانوں پر گھمنڈ کیا، لیکن آج اس کا نام تک لوگ لعنت کے ساتھ لیتے ہیں، جبکہ موسیٰ علیہ السلام کا نام عزت اور محبت سے لیا جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں وہی شخص بڑا ہے جو ایمان اور عملِ صالح رکھتا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کو اس کی ظاہری حالت کی بنا پر حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو" (الحجرات: 13)۔
📜 آیت 50-54 — زخرف
ترجمہ — زخرف 52
سورہ زخرف آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا…سورہ آیت 52/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








