زخرف · 53/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ ۝٥٣
Falaw laa ulqiya `alaihi aswiratum min zahabin awjaaa`a ma`ahul malaaa`ikatu muqtarineen
📖 اردو ترجمہ
تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے
📜

ترجمہ — Tafsir

فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ

معانی الفاظ:

  • أَسْوِرَةٌ: اسورہ کی جمع ہے، یعنی سونے کے کنگن۔ یہ ان لوگوں کے لیے علامتِ عزت و شرف ہوا کرتے تھے۔
  • مُقْتَرِنِينَ: ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے، لگاتار آنے والے، یا جوڑے جوڑے۔

تفسیر:

یہ وہ وقت ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ کا پیغام پیش کیا اور اپنی رسالت کا دعویٰ کیا۔ فرعون اور اس کے درباریوں نے انکار کیا اور طنز و استہزا کے انداز میں کہا: "اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہے تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں آئے جو اس کی تصدیق کرتے؟" ان کا خیال تھا کہ رسالت کا معیار دنیاوی شان و شوکت ہے، حالانکہ اللہ اپنے رسولوں کو ایسی چیزوں سے نہیں بھیجتا بلکہ انہیں صبر، حکمت اور معجزات سے نوازتا ہے۔

یہ اعتراض دراصل ان کے جاہلانہ تصورِ رسالت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو شخص اللہ کا رسول ہو اسے مال و دولت اور ظاہری رتبے سے نوازا جائے گا، لیکن اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے تاکہ ان کا ایمان اور صبر ظاہر ہو۔ فرعون نے یہ بھی کہا کہ اگر موسیٰ سچے ہیں تو ان کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں آئے جو ان کی حمایت میں گواہی دیں؟ حالانکہ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو وہ معجزات دیے تھے جو فرشتوں کے آنے سے بڑھ کر تھے، جیسے عصا کا سانپ بن جانا اور ید بیضا۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی پہچان ظاہری چمک دمک سے نہیں ہوتی بلکہ دل کی بصیرت اور اللہ کے نشانات سے ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیاوی معیاروں سے حق کو پرکھتے ہیں وہ کبھی ہدایت نہیں پاتے۔ اللہ نے اپنے انبیاء کو ہمیشہ سادگی اور توکل کی زندگی دی تاکہ لوگ ان کی ذات کی بجائے اللہ کے پیغام پر توجہ دیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کو دنیاوی چیزوں سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ کامیابی اس میں نہیں کہ ہمارے پاس سونے کے کنگن ہوں یا ہمارے ساتھ فرشتے چلیں، بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کے رسول کی سنت کو اپنائیں۔ آج بھی بہت سے لوگ دین کو مال و دولت یا عہدے سے پرکھتے ہیں، لیکن حقیقی عزت تو تقویٰ میں ہے۔ اللہ ہمیں بصیرت عطا فرمائے کہ ہم حق کو حق پہچانیں اور باطل کو باطل، آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 51-55 — زخرف

51وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
52أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
53فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ
تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے
54فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
55فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ
جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
53آیت

ترجمہ — زخرف 53

سورہ زخرف آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے…

سورہ آیت 53/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں