Wa iz sarafinaaa ilaika nafaram minal jinni yastami`oonal Quraana falammaa hadaroohu qaalooo ansitoo falammaa qudiya wallaw ilaa qawmihim munzireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و گروهى از جن را نزد تو روانه كرديم تا قرآن را بشنوند. چون به حضرتش رسيدند گفتند: گوش فرادهيد. چون به پايان آمد، همانند بيمدهندگانى نزد قوم خود بازگشتند.
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صَرَفْنَا: ہم نے پھیر دیا، مائل کیا۔
نَفَرًا: ایک گروہ، کچھ افراد (تین سے دس تک کے درمیان تعداد)۔
حَضَرُوهُ: وہ اس (قرآن سننے) کے مقام پر حاضر ہوئے۔
أَنصِتُوا: خاموش رہو، توجہ سے سنو۔
قُضِيَ: مکمل ہو گیا، ختم ہو گیا۔
وَلَّوْا: واپس لوٹ گئے۔
مُنذِرِينَ: ڈرانے والے، خبردار کرنے والے۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! آپ اس عظیم واقعے کو یاد کریں جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ کی طرف بھیجا تاکہ وہ قرآن سنیں۔ یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کی دعوت کو تمام مخلوقات تک پہنچانا چاہتا تھا، چاہے وہ انسان ہوں یا جن۔ جب یہ جن آپ کی تلاوت کے قریب پہنچے اور قرآن کی آیات سننے کے لیے حاضر ہوئے، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: "خاموش رہو، غور سے سنو!" یہ ان کا ادب اور احترام تھا جو انہوں نے کلامِ الٰہی کے ساتھ کیا۔
پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت مکمل فرمائی، تو یہ جن آپ کے دل میں بسنے والے ایمان اور قرآن کی تاثیر سے بھر گئے۔ ان کے دل نرم ہو گئے اور وہ اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے، لیکن اس بار وہ صرف سننے والے نہیں تھے، بلکہ ڈرانے والے بن کر گئے۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور انہیں ایمان لانے کی دعوت دی۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اگر جنات جو کہ غیبی مخلوق ہیں، قرآن سن کر متاثر ہو جاتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں، تو ہم انسانوں کو تو اور بھی زیادہ قرآن سے محبت کرنی چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ قرآن وہ کتاب ہے جو دلوں کو روشنی دیتی ہے، اور جو بھی اسے سچے دل سے سنتا ہے، وہ راہِ ہدایت پا لیتا ہے۔ آئیے ہم بھی قرآن کو توجہ سے سنیں، اس پر غور کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے
اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (ان کو) نصیحت کریں
کہنے لگے کہ اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا (دین) اور سیدھا رستہ بتاتی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔