ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَصَدُّوا: خود بھی روکا اور دوسروں کو بھی راہِ حق سے روکا۔
- شَاقُّوا الرَّسُولَ: رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی اور ان سے دشمنی کی۔
- تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَىٰ: ان پر حق واضح ہو گیا اور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ راہِ حق ہے۔
- يُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ: ان کے اعمال کو برباد اور بے ثمر کر دے گا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جنہوں نے کفر کیا، یعنی اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کیا، اور ساتھ ہی دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے دین سے روکتے رہے۔ انہوں نے نہ صرف خود راہِ حق اختیار نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس راستے پر چلنے سے باز رکھا۔ مزید برآں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی، ان سے عداوت رکھی اور ان کے خلاف محاذ کھولا۔
یہ سب کچھ انہوں نے اس وقت کیا جب ان پر حق واضح ہو چکا تھا، یعنی ان کے پاس دلائل اور معجزات آ چکے تھے جن سے ثابت ہو گیا تھا کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ پھر بھی انہوں نے ہٹ دھرمی اور ضد کی بنا پر حق کو قبول نہ کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کفر اور مخالفت سے اللہ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک اور بلند ہے کہ اسے کسی کا نقصان پہنچ سکے۔ درحقیقت ان کا نقصان خود انہیں کو ہو گا۔ اللہ کا دین قائم رہے گا، چاہے یہ لوگ کتنی ہی مخالفت کریں۔
پھر اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ وہ ان کے اعمال کو برباد کر دے گا۔ یعنی جو نیک اعمال انہوں نے دنیا میں کیے تھے، جیسے صلہ رحمی، خیرات وغیرہ، وہ سب اکارت ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے یہ اعمال اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیے تھے بلکہ دکھاوے کے لیے کیے تھے، اور ان کا ایمان ہی نہیں تھا۔ ایمان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ایمان ہی وہ بنیاد ہے جس پر تمام اعمال کی قبولیت کا دارومدار ہے۔ جس شخص کے پاس ایمان نہیں، اس کے سارے اعمال بیکار ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں۔ لہٰذا ہمیں سب سے پہلے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اسے مضبوط کرنا چاہیے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ حق کو قبول کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جب انسان کو حق واضح ہو جائے تو اسے فوراً قبول کر لینا چاہیے، ورنہ وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے حق کو جان بوجھ کر رد کیا اور پھر نقصان اٹھایا۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کا دین کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ مخالفت کرنے والے چاہے کتنی ہی کوشش کریں، اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور کسی کی مخالفت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق دے اور ہمارے اعمال کو اپنی رضا کے لیے خالص کر دے۔ آمین۔
📜 آیت 30-34 — محمد
ترجمہ — محمد 32
سورہ محمد آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جن لوگوں کو سیدھا رستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی…سورہ آیت 32/38 — محمد محمد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: محمد سنیں, محمد ترجمہ, محمد mp3, محمد pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








