ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَعِبٌ: کھیل، تفریح، وہ کام جس میں کوئی حقیقی نفع نہ ہو۔
- لَهْوٌ: غفلت، دل بہلانے والی چیز، وہ مشغولیت جو انسان کو آخرت سے غافل کر دے۔
- أُجُورَكُمْ: تمہارے اجر و ثواب، نیک اعمال کا بدلہ۔
- لَا يَسْأَلْكُمْ أَمْوَالَكُمْ: وہ تم سے تمہارے سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں دنیا کی حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے، جیسے بچے کھیلتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتا ہے، ویسے ہی دنیا کی رونقیں، مال و دولت، عزت و شہرت، یہ سب کچھ عارضی ہے اور آخر کار فنا ہو جانے والا ہے۔ یہ کوئی دائمی ٹھکانہ نہیں، بلکہ ایک لمحہ بھر کا مسافر خانہ ہے۔ جو شخص اس دنیا کو اپنا اصل مقصد بنا لے، وہ آخرت کی ابدی کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری دیتے ہیں کہ اگر تم ایمان لاؤ گے یعنی اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے یقین کرو گے، اور تقویٰ اختیار کرو گے یعنی اللہ کے حکموں پر عمل کرو گے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچو گے، تو اللہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا ایک اور پہلو بیان فرماتے ہیں کہ وہ تم سے تمہارے سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ نہیں چاہتا کہ تم اپنی ساری دولت اس کی راہ میں دے دو اور تمہارے پاس کچھ نہ بچے۔ بلکہ وہ تو صرف زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے جو مال کا ایک معمولی حصہ ہے، تاکہ تمہارے دلوں کی پاکیزگی ہو اور معاشرے کے غریب لوگوں کی مدد ہو سکے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے تم پر صرف فرض زکوٰۃ مقرر کی ہے، پوری دولت کا مطالبہ نہیں کیا۔
اگر اللہ تم سے تمہارے سارے مال کا مطالبہ کرتا اور بار بار سختی سے مانگتا، تو تم بخل کا مظاہرہ کرتے اور اسے دینے سے انکار کر دیتے، جس سے تمہارے دلوں کی وہ خرابیاں ظاہر ہو جاتیں جو اندر چھپی ہوئی تھیں۔ لیکن اللہ نے اپنے بندوں پر آسانی کی ہے اور صرف وہی چیز مانگی ہے جو ان کے لیے بھلائی کا باعث ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو اپنا مقصدِ حیات نہ بنائیں، کیونکہ یہ تو بس ایک عارضی کھیل ہے۔ اصل کامیابی تو آخرت میں ہے، جہاں اللہ اپنے مومن اور متقی بندوں کو ان کی محنت کا پورا اجر دے گا۔ اور دیکھیں اللہ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے ہم پر صرف زکوٰۃ فرض کی ہے، پوری دولت نہیں مانگی۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے اس احسان کا شکریہ ادا کریں اور خوشی خوشی زکوٰۃ دیں، کیونکہ یہ ہمارے لیے ہی بہتر ہے۔ یاد رکھیں، جو شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے، وہ دونوں کھو دیتا ہے، لیکن جو آخرت کو ترجیح دیتا ہے، اللہ اسے دنیا بھی عطا فرماتا ہے اور آخرت بھی۔ اللہ ہمیں دنیا کی محبت سے بچائے اور آخرت کی فکر عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 34-38 — محمد
ترجمہ — محمد 36
سورہ محمد آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور…سورہ آیت 36/38 — محمد محمد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: محمد سنیں, محمد ترجمہ, محمد mp3, محمد pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








