فَيُحْفِكُمْ: تم پر سختی کرے، یعنی مانگنے میں اصرار اور اصراف کرے۔
تَبْخَلُوا: تم بخل کرو، یعنی دل تنگی کرو اور دینے سے انکار کرو۔
أَضْغَانَكُمْ: تمہارے دلوں کے کینے اور بغض، جو نفاق اور کمزوری ایمان کی وجہ سے چھپے ہوئے ہوں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے، وہ جانتا ہے کہ انسان کا دل مال سے کتنا لگا ہوا ہے اور اسے چھوڑنا کتنا مشکل ہے۔ اس لیے وہ تم سے تمہارا سارا مال طلب نہیں کرتا، بلکہ صرف ایک حصہ زکوٰۃ اور صدقات کی صورت میں مانگتا ہے، جو تمہارے لیے پاکیزگی اور برکت کا ذریعہ ہے۔ اگر اللہ تم سے تمہارے تمام اموال کا مطالبہ کرتا اور اس پر اصرار کرتا، تو تم بخل کا مظاہرہ کرتے اور اپنا مال دینے سے انکار کر دیتے۔ اس طرح تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے کینے، حسد اور نفاق کے جذبات ظاہر ہو جاتے، جو تمہارے ایمان کی کمزوری اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے محبت نہ ہونے کا ثبوت ہوتے۔
یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے تم پر اتنا بوجھ نہیں ڈالا، بلکہ اپنے فضل سے تمہارے دلوں کی حفاظت کی اور تمہیں اس آزمائش سے بچایا۔ اے بندو! اللہ نے تمہارے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا ہے، تو تم بھی اس کی راہ میں خرچ کرنے میں فیاضی اختیار کرو، کیونکہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے اور زیادہ دیتا ہے۔ یاد رکھو، مال کی محبت انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے، لیکن جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اس کا دل اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اور اس کے سینے سے کینہ اور بغض نکل جاتا ہے۔ اللہ تمہیں اس عمل کی توفیق دے جو اس کی رضا کا ذریعہ بنے اور تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا۔ اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا
دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔