اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَمْ یُؤْمِن: ایمان نہ لائے، یقین نہ کرے۔
أَعْتَدْنَا: ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
سَعِیرًا: بھڑکتی ہوئی آگ، دہکتی ہوئی آگ۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی اہم حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتا ہے، اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اسے قبول نہیں کرتا، تو وہ کافر ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے، جو نہ کبھی بجھے گی اور نہ ہی ان کے عذاب میں کمی آئے گی۔
یہ آیت مومنوں کے لیے ایک پُرمعنی پیغام ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ دل سے یقین، زبان سے اقرار اور اعمال سے تصدیق کا مجموعہ ہے۔ جس نے ان تینوں میں سے کسی ایک کو چھوڑا، اس کا ایمان مکمل نہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں؟ کیا ہماری زندگیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھل رہی ہیں؟ یاد رکھیں، ایمان وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی ہے، تو ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کو اعمالِ صالحہ سے مضبوط کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان سے محروم ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، لیکن جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اس کے لیے اللہ کے ہاں بے شمار انعامات اور جنت کی خوشیاں تیار ہیں۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں ایمان کی حلاوت سے لطف اندوز ہونے کی توفیق دے۔ آمین۔
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔