طور · 34/49
ترجمہ تلفظ — طور
فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٍ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ  ۝٣٤
Falyaatoo bihadeesim misliheee in kaanoo saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَلْيَأْتُوا: تو لے آئیں، پیش کریں۔
  • بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ: اس (قرآن) جیسی کوئی بات یا کلام۔
  • إِن كَانُوا صَادِقِينَ: اگر وہ (اپنے دعوے میں) سچے ہیں۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کو چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے، تو پھر وہ بھی اس جیسا کوئی کلام بنا کر لے آئیں۔ یعنی اگر وہ سچے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ قرآن کے مثل ایک ہی حدیث (کلام) پیش کر دیں، چاہے وہ من گھڑت ہی کیوں نہ ہو۔

یہ چیلنج قرآن کے معجزہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔ قرآن کا اسلوب، اس کی فصاحت و بلاغت، اس کا نظم و ترتیب، اس کی حقانیت اور اس کا اثرِ عمیق — یہ سب ایسے خصائص ہیں جو کسی بشر کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس چیلنج کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کسی انسان کی تخلیق نہیں، بلکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ نے "حدیث" کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی ایک چھوٹی سی بات یا ایک جملہ بھی کافی ہے — پورا قرآن پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود اہلِ عرب، جو فصاحت و بلاغت میں اپنے زمانے کے بے مثال تھے، اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ قرآن کی عظمت اور اس کا معجزاتی پہلو آج بھی قائم ہے۔ جس طرح عرب کے فصحا اس کے سامنے عاجز آ گئے، آج بھی اگر کوئی شخص خلوصِ نیت سے قرآن کا مطالعہ کرے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں سربلندی عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — طور

32أَمۡ تَأۡمُرُهُمۡ أَحۡلَٰمُهُم بِهَٰذَآۚ أَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُونَ 
کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر
33أَمۡ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥۚ بَل لَّا يُؤۡمِنُونَ 
کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے
34فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٍ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ 
اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں
35أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ 
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں
36أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ 
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے
طورقرآن فہرست
49آیت
مکیRevelation
34آیت

ترجمہ — طور 34

سورہ آیت 34/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں