ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَقَوَّلَهُ: اس کا مطلب ہے کہ اسے خود گھڑ لیا، اپنی طرف سے بنا لیا۔ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ قرآن خود تراش لیا ہے۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتے تھے کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے، یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنا لیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے، اسی لیے ایسی باتیں کہتے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کہتے۔
دراصل یہ لوگ جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم امی ہیں، نہ پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں، پھر بھی وہ قرآن جیسی عظیم کتاب پیش کر رہے ہیں جو عرب کے فصیح و بلیغ لوگوں کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ یہ بات ان پر واضح تھی کہ یہ کلام انسان کا نہیں ہو سکتا، لیکن پھر بھی وہ ایمان نہ لائے۔ ان کا اصل مسئلہ قرآن کا جھوٹا ہونا نہیں تھا، بلکہ ان کا تکبر اور غرور تھا جو انہیں حق قبول کرنے سے روک رہا تھا۔ وہ اپنی بڑائی اور جاہ و منصب کھونا نہیں چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے یہ بہانہ تراشا کہ یہ قرآن محمد کا خود ساختہ ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حق کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر اور ضد ہے۔ انسان جب تک اپنے نفس کو نہیں مارتا اور اپنے تکبر کو نہیں توڑتا، حق اس پر واضح سے واضح ہونے کے باوجود قبول نہیں کرتا۔ قرآن تو وہ کتاب ہے جس نے پوری دنیا کو چیلنج کیا کہ اگر تمہیں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لاؤ، لیکن آج تک کوئی نہیں لا سکا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، کسی انسان کا نہیں۔
آئیے ہم اپنے دلوں سے تکبر نکالیں اور حق کو قبول کریں، کیونکہ جس نے حق قبول کیا اس نے اپنی نجات کا سامان کیا، اور جس نے تکبر کیا وہ خسارے میں رہا۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 31-35 — طور
ترجمہ — طور 33
سورہ طور آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از…سورہ آیت 33/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








