ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ: آنکھیں اسے (اپنی بصارت سے) گھیر نہیں سکتیں، نہ وہ کسی نگاہ میں آتا ہے۔
- وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ: وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کرتا ہے، ان کی ہر حرکت، ہر جھلک اور ہر پوشیدہ بات اس سے چھپی نہیں۔
- اللَّطِيفُ: اپنے بندوں پر مہربان، نرمی برتنے والا، جو باریک ترین چیزوں کا علم رکھتا ہے۔
- الْخَبِيرُ: ہر چیز کی حقیقت اور باطن سے پوری طرح باخبر۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کمالِ قدرت کا ایسا حسین نقش پیش کرتی ہے جو عقلِ انسانی کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اللہ رب العزت وہ ذات ہے جسے دنیا کی کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، نہ کوئی نگاہ اس کا احاطہ کر سکتی ہے۔ وہ ہر نظر سے بالا تر ہے، کیونکہ وہ خالقِ نظر ہے، اور خالق کبھی مخلوق کی نگاہ میں محدود نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ہم سے دور ہے یا ہماری طرف دیکھتا نہیں۔ بلکہ وہ خود فرماتا ہے کہ "وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کرتا ہے" یعنی ہر آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، وہ اس کا علم رکھتا ہے۔ کوئی نظر اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی آنسو اس سے مخفی نہیں، کوئی جھلک اس سے چھپی نہیں۔ وہ دیکھتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا، وہ حاضر ہے مگر محدود نہیں، وہ قریب ہے مگر محیط ہے۔
پھر فرمایا: "وہ لطیف اور خبیر ہے" یعنی وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے، ان کی کمزوریوں کو جانتا ہے، ان کی پوشیدہ حاجتوں سے واقف ہے، اور ان کے دلوں کی دھڑکنوں تک سے باخبر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی اور رحمت کا معاملہ فرماتا ہے، اور ہر چیز کے باطن کا علم رکھتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری اور سکون کا پیغام ہے! جب ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھتا ہے، ہماری ہر حالت سے واقف ہے، تو ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کوئی ظالم ہم پر ظلم کرے تو اللہ دیکھ رہا ہے، کوئی ہم پر الزام لگائے تو اللہ حقیقت جانتا ہے، کوئی ہمارے راز کو افشا کرے تو اللہ ہمارے دل کا حال جانتا ہے۔
اور جب ہم یہ مان لیں کہ اللہ کو آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں، تو یہ ہمارے ایمان کی پختگی کی دلیل ہے۔ ہم اُس ذات پر ایمان لاتے ہیں جسے ہم نے نہیں دیکھا، اور یہی ایمان ہمارے لیے باعثِ عزت ہے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنا دیدار عطا فرمائے گا، جیسا کہ احادیث میں وارد ہے، لیکن اس کا احاطہ نہیں کر سکیں گے، کیونکہ وہ ہر چیز سے بڑا اور برتر ہے۔
آئیے! ہم اس آیت پر غور کریں اور اپنے دلوں کو اس یقین سے منور کریں کہ اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، ہمیں دیکھتا ہے، ہماری سنتا ہے، اور ہم سے بے حد محبت کرتا ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو ہمیں صبر، شکر اور بھروسے کی توفیق دیتا ہے، اور ہمیں اس دنیا کی آزمائشوں میں مضبوط بناتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی معرفت اور محبت کی دولت سے نوازے، آمین۔
📜 آیت 101-105 — انعام
ترجمہ — انعام 103
سورہ انعام آیت 103 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں…سورہ آیت 103/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 101–105. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








