Wa maa lakum allaa taakuloo mimmaa zukirasmul laahi `alaihi wa qad fassala lakum maa harrama `alaikum illaa mad turirtum ilaih; wa inna kaseeral la yudilloona bi ahwaaa`ihim bighairi `ilm; inna Rabbaka Huwa a`lamu bilmu`tadeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چرا از آنچه نام خدا بر آن ياد شده است نمىخوريد و خدا چيزهايى را كه بر شما حرام شده است به تفصيل بيان كرده است، مگر آنگاه كه ناچار گرديد؟ بسيارى بىهيچ دانشى ديگران را گمراه پندارهاى خود كنند. هرآينه پروردگار تو به متجاوزان از حد داناتر است.
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ذُکِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْہِ: جس (جانور) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، یعنی حلال ذبیحہ۔
فَصَّلَ: تفصیل سے بیان کیا، واضح کیا۔
اضْطُرِرْتُمْ: تم مجبور کر دیے جاؤ، تمہیں ناگزیر ضرورت لاحق ہو جائے۔
یُضِلُّونَ: گمراہ کرتے ہیں۔
بِاَہْوَائِہِمْ: اپنی خواہشات کی پیروی سے۔
الْمُعْتَدِینَ: حد سے تجاوز کرنے والے۔
تفسیر:
اے مسلمانو! تمہیں کون سی چیز اس سے روک رہی ہے کہ تم اس جانور کو کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو؟ اللہ تعالیٰ نے تو تمہارے لیے حرام چیزوں کی مکمل تفصیل بیان کر دی ہے، جیسے مردار، خون، سور کا گوشت وغیرہ۔ یہ سب چیزیں تم پر حرام ہیں، لیکن اگر تمہیں سخت بھوک یا کسی مجبوری کی حالت میں ان میں سے کچھ کھانا پڑ جائے تو یہ تمہارے لیے جائز ہے، بشرطیکہ تم حد سے تجاوز نہ کرو اور ضرورت کی مقدار پر اکتفا کرو۔
یاد رکھو! بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور جہالت کی وجہ سے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرا دیتے ہیں، جیسے جاہلیت کے لوگ بحیرہ، وصیلہ اور حامی کو حرام سمجھتے تھے، حالانکہ اللہ نے انہیں حلال کیا تھا۔ اے نبی! آپ کا رب ان حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے، جو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں، اور وہی ان کا حساب لینے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ دین میں میانہ روی اور اعتدال ضروری ہے۔ اللہ نے جو حلال کیا ہے اسے کھاؤ اور حرام سے بچو، لیکن اگر کوئی شدید مجبوری پیش آ جائے تو اللہ کی رحمت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔ یہ اسلام کا حسن ہے کہ وہ آسانی اور رحمت کا دین ہے، سختی اور تنگی کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو اپنی خواہشات کو دین پر مقدم رکھتے ہیں۔ آمین۔
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔