انعام · 122/165
ترجمہ تلفظ — انعام
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝١٢٢
Awa man kaana maitan fa ahyainaahu wa ja`alnaa lahoo noorany yamshee bihee fin naasi kamamm masaluhoo fiz zulumaati laisa bikhaarijim minhaa; kazaalika zuyyina lilkaafireena maa kaanoo ya`maloon
📖 اردو ترجمہ
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • میتاً: کفر و ضلالت کی وجہ سے ہلاک شدہ، مردہ دل۔
  • فأحییناه: ہم نے اسے ایمان اور ہدایت کے ذریعے زندہ کر دیا۔
  • نوراً: ایمان اور ہدایت کی روشنی۔
  • الظلمات: کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیاں۔
  • زیّن: خوشنما بنا دیا، پسندیدہ بنا دیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک زبردست اور واضح مثال کے ذریعے مومن اور کافر کے درمیان فرق کو بیان فرما رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو پہلے کفر اور گمراہی کی وجہ سے مردہ تھا، یعنی اس کا دل ہدایت سے خالی تھا، وہ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا، پھر اللہ نے اسے اپنے فضل و کرم سے زندہ کر دیا، یعنی ایمان کی دولت عطا فرمائی، اس کے دل کو ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا، اور اسے ایسا نور (ایمان اور علم) عطا کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان راہِ راست پر چلتا ہے، حق و باطل میں تمیز کرتا ہے، اور سیدھی راہ دیکھ کر چلتا ہے، کیا یہ شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے؟ وہ شخص جو کفر، جہالت اور گناہوں کی ظلمتوں میں گھرا ہوا ہے، اور ان تاریکیوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، اس کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں، اس کا دل بند ہو چکا ہے، وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں پہچانتا، اور ہدایت کی روشنی اس تک پہنچ کر بھی اسے فائدہ نہیں دیتی۔

یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے ان کے برے اعمال کو خوشنما بنا دیا ہے۔ وہ اپنے شرک، اپنی معصیتوں اور اپنے برے کاموں کو اچھا سمجھتے ہیں، انہیں وہ پسند آتے ہیں، اور وہ انہی پر مطمئن ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ایک سزا ہے کہ ان کے اعمال انہیں اچھے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ برے ہیں، اور یہی چیز انہیں عذاب کے مستحق بناتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان حقیقی زندگی ہے! جو شخص ایمان لاتا ہے، وہ حقیقت میں مردہ ہونے کے بعد زندہ ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، اس کا دل روشن ہو جاتا ہے، اور وہ دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، آخرت ہی اصل ٹھکانہ ہے۔ ایمان اسے صبر، شکر اور قناعت سکھاتا ہے، اور اسے ایک پرامن زندگی عطا کرتا ہے۔

دوسری طرف کفر اور گناہ اندھیرے ہیں، جو انسان کو گھٹن اور پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ کافر کبھی سکون نہیں پا سکتا، چاہے وہ دنیا کی دولت اور آسائشیں کیوں نہ حاصل کر لے۔ اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے خالق سے تعلق توڑ دیا ہے۔

آئیے ہم اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا کی، اور ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس نور کو محفوظ رکھیں، اس پر عمل کریں، اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ ہم دعا کریں کہ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 120-124 — انعام

120وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے
121وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
122أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں
123وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں
124وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
122آیت

ترجمہ — انعام 122

سورہ انعام آیت 122 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو…

سورہ آیت 122/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 120–124. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں