ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- میتاً: کفر و ضلالت کی وجہ سے ہلاک شدہ، مردہ دل۔
- فأحییناه: ہم نے اسے ایمان اور ہدایت کے ذریعے زندہ کر دیا۔
- نوراً: ایمان اور ہدایت کی روشنی۔
- الظلمات: کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیاں۔
- زیّن: خوشنما بنا دیا، پسندیدہ بنا دیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک زبردست اور واضح مثال کے ذریعے مومن اور کافر کے درمیان فرق کو بیان فرما رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو پہلے کفر اور گمراہی کی وجہ سے مردہ تھا، یعنی اس کا دل ہدایت سے خالی تھا، وہ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا، پھر اللہ نے اسے اپنے فضل و کرم سے زندہ کر دیا، یعنی ایمان کی دولت عطا فرمائی، اس کے دل کو ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا، اور اسے ایسا نور (ایمان اور علم) عطا کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان راہِ راست پر چلتا ہے، حق و باطل میں تمیز کرتا ہے، اور سیدھی راہ دیکھ کر چلتا ہے، کیا یہ شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے؟ وہ شخص جو کفر، جہالت اور گناہوں کی ظلمتوں میں گھرا ہوا ہے، اور ان تاریکیوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، اس کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں، اس کا دل بند ہو چکا ہے، وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں پہچانتا، اور ہدایت کی روشنی اس تک پہنچ کر بھی اسے فائدہ نہیں دیتی۔
یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے ان کے برے اعمال کو خوشنما بنا دیا ہے۔ وہ اپنے شرک، اپنی معصیتوں اور اپنے برے کاموں کو اچھا سمجھتے ہیں، انہیں وہ پسند آتے ہیں، اور وہ انہی پر مطمئن ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ایک سزا ہے کہ ان کے اعمال انہیں اچھے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ برے ہیں، اور یہی چیز انہیں عذاب کے مستحق بناتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان حقیقی زندگی ہے! جو شخص ایمان لاتا ہے، وہ حقیقت میں مردہ ہونے کے بعد زندہ ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، اس کا دل روشن ہو جاتا ہے، اور وہ دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، آخرت ہی اصل ٹھکانہ ہے۔ ایمان اسے صبر، شکر اور قناعت سکھاتا ہے، اور اسے ایک پرامن زندگی عطا کرتا ہے۔
دوسری طرف کفر اور گناہ اندھیرے ہیں، جو انسان کو گھٹن اور پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ کافر کبھی سکون نہیں پا سکتا، چاہے وہ دنیا کی دولت اور آسائشیں کیوں نہ حاصل کر لے۔ اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے خالق سے تعلق توڑ دیا ہے۔
آئیے ہم اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا کی، اور ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس نور کو محفوظ رکھیں، اس پر عمل کریں، اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ ہم دعا کریں کہ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 120-124 — انعام
ترجمہ — انعام 122
سورہ انعام آیت 122 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو…سورہ آیت 122/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 120–124. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








