Wa laa taakuloo mimaa lam yuzkaris mullaahi `alaihi wa innahoo lafisq; wa innash Shayaateena la yoohoona ilaaa awliyaaa`ihim liyujaadilookum wa in ata`tumoohum innnakum lamushrikoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از ذبحى كه نام خدا بر آن ياد نشده است مخوريد كه خود نافرمانى است. و شياطين به دوستان خود القا مىكنند كه با شما مجادله كنند؛ اگر از ايشان پيروى كنيد از مشركانيد.
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ: جس (جانور) پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، یعنی ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔
لَفِسْقٌ: یہ نافرمانی اور گناہ ہے۔
لَيُوحُونَ: شیاطین (جنوں میں سے شیاطین) اپنے دوستوں (انسانوں میں سے مشرکوں) کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔
لِيُجَادِلُوكُمْ: تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور تمہیں الجھائیں۔
تفسیر:
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس جانور کا گوشت نہ کھاؤ جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، چاہے اس پر کسی اور کا نام لیا گیا ہو (جیسے بتوں یا غیر اللہ کا نام) یا بالکل ہی نام نہ لیا گیا ہو (جیسے مردار)۔ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ اس طرح کا گوشت کھانا اللہ کی اطاعت سے نکل کر اس کی نافرمانی میں پڑنا ہے، اور یہ ایک بڑا گناہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ شیاطین (جنوں میں سے شیاطین) اپنے دوستوں (انسانوں میں سے مشرکوں اور کافروں) کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور تمہیں اس حکم پر اعتراض کرنے کی ترغیب دیں۔ وہ کہتے ہیں: "تم وہ جانور کھاتے ہو جو تم خود ذبح کرتے ہو، لیکن وہ جانور نہیں کھاتے جو اللہ نے خود مارا ہو (یعنی مردار)؟" یہ ان کی جھوٹی دلیل ہے، کیونکہ اللہ نے حلال و حرام کا فیصلہ خود کیا ہے، اور مردار کو حرام قرار دیا ہے، کیونکہ وہ نجس اور نقصان دہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈراتا ہے کہ اگر تم نے ان شیاطین کے دوستوں کی بات مان لی اور مردار یا بغیر اللہ کا نام لیے ذبح شدہ جانور کو حلال سمجھ کر کھا لیا، تو تم بھی انہیں کی طرح مشرک ہو جاؤ گے، کیونکہ تم نے اللہ کے حکم کو چھوڑ کر ان کی بات کو مانا، اور یہ شرک ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کا حکم سب سے بڑا ہے۔ شیطان اور اس کے ساتھی ہمیشہ ہمیں راہِ راست سے بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمیں ان کے وسوسوں سے بچنا ہے۔ اللہ نے جو حلال کیا ہے وہ واقعی پاک اور بہتر ہے، اور جو حرام کیا ہے وہ نجس اور نقصان دہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں، اور کبھی بھی ان لوگوں کی بات نہ مانیں جو اللہ کے احکام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی اطاعت ہی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔