Falammmaa ra al qamara baazighan qaala haazaa Rabbee falammmmaaa afala qaala la`il lam yahdinee Rabbee la akoonanna minal qawmid daaalleen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنگاه ماه را ديد كه طلوع مىكند. گفت: اين است پروردگار من. چون فروشد، گفت: اگر پروردگار من مرا راه ننمايد، از گمراهان خواهم بود.
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بازغًا: طلوع ہونے والا، افق پر نمودار ہونے والا۔
أَفَلَ: غروب ہو گیا، ڈوب گیا۔
لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے۔
الضَّالِّينَ: گمراہ لوگ، راہِ راست سے بھٹکے ہوئے۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب چاند کو طلوع ہوتے دیکھا تو اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کے انداز میں کہا: "یہ میرا رب ہے۔" یہ ان کی طرف سے حقیقی اقرار نہ تھا، بلکہ وہ اپنی قوم کے عقیدے کو باطل ثابت کرنے کے لیے انہی کے انداز میں گفتگو کر رہے تھے تاکہ ان پر حجت قائم ہو سکے۔ جب چاند غروب ہو گیا تو انہوں نے فرمایا: "اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔" اس طرح انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جو چیزیں طلوع و غروب ہوتی ہیں، وہ عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں، کیونکہ حقیقی رب وہی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا، قادرِ مطلق اور ہر عیب سے پاک ہے۔
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دینا تھا، اور انہوں نے حکمت اور نرمی کے ساتھ ان کے باطل عقائد کو بے نقاب کیا۔ ان کا یہ انداز ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم بھی غیر مسلموں یا جاہلوں سے گفتگو کرتے وقت حکمت، دلیل اور محبت کا راستہ اختیار کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں ہر لمحہ اس کی رحمت اور توفیق کا محتاج رہنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ انہیں ثابت قدم رکھے، کیونکہ گمراہی سے بچنے کا واحد ذریعہ اللہ کی ہدایت ہے۔ آج ہم بھی جب اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیں تو اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے اور گمراہی سے محفوظ رکھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار ہمیں اپنی قدرت اور نشانیوں پر غور کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ ہم اس کی عظمت کو پہچانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔
(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔