انعام · 76/165
ترجمہ تلفظ — انعام
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ۝٧٦
Falammaa janna `alaihil lailu ra aa kawkabaan qaala haaza Rabbee falammaaa afala qaala laaa uhibbul aafileen
📖 اردو ترجمہ
(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جَنَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ: رات کا اندھیرا چھا جانا، اندھیرے کا اسے ڈھانپ لینا۔
  • کَوْکَبًا: ایک ستارہ (یہاں روشن ستارہ یا سیارہ مراد ہے
  • أَفَلَ: غروب ہو گیا، ڈوب گیا، نظر سے اوجھل ہو گیا۔
  • الْآفِلِینَ: غروب ہونے والے، ڈوب جانے والے۔

تفسیر:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایسا موقع دیا کہ وہ اپنی قوم کے سامنے ان کے باطل عقیدے کا پردہ چاک کریں۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روشن ستارہ دیکھا تو انہوں نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید کی طرف راغب کرنے کے لیے، انہی کے انداز میں فرمایا: "یہ میرا رب ہے؟" — یہ ان کی طرف سے حقیقی اقرار نہیں تھا، بلکہ ایک استدراجی حکمتِ عملی تھی تاکہ قوم خود سوچے۔

پھر جب وہ ستارہ غروب ہو گیا اور ڈوب گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً فرمایا: "میں ان چیزوں کو پسند نہیں کرتا جو غروب ہو جائیں۔" یعنی جو رب غروب ہو جائے، وہ حقیقی معبود نہیں ہو سکتا، کیونکہ حقیقی رب وہی ہے جو ہمیشہ باقی رہے، کبھی غائب نہ ہو، ہر وقت حاضر و ناظر ہو۔

یہ ایک عظیم سبق ہے کہ انسان کو اپنے رب کی معرفت میں غور و فکر کرنا چاہیے۔ جو چیزیں بدلتی ہیں، غروب ہوتی ہیں، یا کسی حال میں محدود ہیں، وہ معبود ہونے کے لائق نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی واحد حقیقی معبود ہے جو ہمیشہ زندہ ہے، کبھی غائب نہیں ہوتا، اور اپنی مخلوق پر ہر لمحہ محیط ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کی مخلوقات پر غور کرنا چاہیے۔ جب ہم سورج، چاند اور ستاروں کو غروب ہوتے دیکھتے ہیں، تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، اور ان کا غروب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خود اپنے خالق کے تابع ہیں۔ ہمیں اپنے دل کو صرف اللہ سے جوڑنا چاہیے، جو کبھی غائب نہیں ہوتا، ہر وقت سنتا اور دیکھتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو انسان کو حقیقی سکون اور اطمینان دیتی ہے۔ اللہ سے محبت کریں، اس کی عبادت کریں، اور اس کے احکامات پر عمل کریں — یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 74-78 — انعام

74۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
75وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں
76فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں
77فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
78فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
76آیت

ترجمہ — انعام 76

سورہ انعام آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ…

سورہ آیت 76/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں