ترجمہ — Tafsir
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
معانی الفاظ:
- أُسْوَةٌ: نمونہ، پیروی کا راستہ، جس کی تقلید کی جائے۔
- يَرْجُو: امید رکھتا ہو، اللہ کی رحمت اور آخرت کے انعام کی توقع رکھتا ہو۔
- يَتَوَلَّ: منہ موڑ لے، راہِ حق سے ہٹ جائے، اعراض کرے۔
- الْغَنِيُّ: بے نیاز، جو کسی کا محتاج نہ ہو۔
- الْحَمِيدُ: ہر حال میں تعریف کے لائق، جس کی ذات اور صفات محمود ہیں۔
تفسیر:
اے ایمان والو! تمہارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنے قوم کے کافر لوگوں سے براءت اور عداوت کا اعلان کیا، اور صرف اللہ پر بھروسہ کیا۔ یہ نمونہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خیر کی امید رکھتا ہو اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو۔ یعنی جو شخص حقیقی ایمان رکھتا ہے، وہی اس نمونے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی رضا ہی اصل کامیابی ہے۔
یہ اُسوہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر زمانے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں، رشتہ داروں یا معاشرے میں کافروں اور اللہ کے دشمنوں سے ملتا ہے، تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔ محبت اور عداوت میں واضح فرق رکھنا چاہیے، اور اللہ کی خوشنودی کو ہر رشتے اور تعلق پر مقدم رکھنا چاہیے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس نصیحت سے منہ موڑ لے، اور اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھے، یا ان کے ساتھ میل جول میں حد سے تجاوز کرے، تو اس کا نقصان صرف اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کسی کی اطاعت کا محتاج نہیں، وہ اپنی ذات میں کامل ہے، اور ہر حالت میں تعریف کے لائق ہے۔ کسی کا ایمان لانا اس کے لیے کوئی نفع نہیں رکھتا، اور کسی کا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ اپنی ذات میں غنی ہے، اور اپنی مخلوق کی عبادت سے بے نیاز ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، نہ کہ دنیا کے لوگوں کی خوشنودی۔ جب ہم اپنے ایمان میں مضبوط ہوں گے، تو اللہ ہمیں عزت دے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے حق کا بول بالا کیا، اور اللہ نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کی۔ آج بھی جو شخص اللہ کی راہ میں مضبوطی سے کھڑا ہوگا، اللہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت تک پہنچاتا ہے، اور یہی وہ محبت ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اللہ ہمیں اپنے دشمنوں سے بیزاری اور اپنے ولیوں سے محبت کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — ممتحنہ
ترجمہ — ممتحنہ 6
سورہ ممتحنہ آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے)…سورہ آیت 6/13 — ممتحنہ الممتحنة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ممتحنہ سنیں, ممتحنہ ترجمہ, ممتحنہ mp3, ممتحنہ pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








