ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لِمَ: کیوں، کس لیے۔
- تَقُولُونَ: تم کہتے ہو۔
- مَا لَا تَفْعَلُونَ: وہ چیز جو تم کرتے نہیں۔
تفسیرِ آیہ:
اے ایمان والو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا سخت مؤاخذہ ہے اُن لوگوں پر جو زبان سے ایسے دعوے کرتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، یا ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا ان کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ آیت اس بری عادت پر تنبیہ کرتی ہے جو کچھ مسلمانوں میں پائی جاتی تھی کہ وہ جہاد کا دعویٰ کرتے تھے، یا نیکیوں کا وعدہ دیتے تھے، لیکن جب عمل کا وقت آتا تو پیچھے ہٹ جاتے۔ کہتے تھے: "ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا" حالانکہ حقیقت میں انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقانہ رویے کی نشاندہی فرما رہے ہیں کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ قول اور فعل میں مطابقت ہو۔ ایک سچا مومن وہ ہے جو پہلے عمل کرے، پھر بات کرے۔ جو شخص صرف زبانی دعوے کرتا ہے اور عمل نہیں کرتا، وہ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک آئینہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پرکھے کہ کہیں وہ بھی تو اُن لوگوں میں شامل نہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور دل و عمل سے انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو سچے ہوتے ہیں، اور سچائی کا پہلا تقاضا یہی ہے کہ انسان وہی کہے جو کرے، اور وہی کرے جو کہے۔
یاد رکھیے! قول اور فعل کا اتحاد ہی دراصل ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ جس شخص کا عمل اس کے قول کی تصدیق کرتا ہے، وہ لوگوں کی نظر میں بھی معتبر ہوتا ہے اور اللہ کے ہاں بھی محبوب۔ اللہ ہمیں عمل کرنے والے سچے مسلمان بنائے، آمین۔
📜 آیت 1-4 — صف
ترجمہ — صف 2
سورہ صف آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا…سورہ آیت 2/14 — صف الصف (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صف سنیں, صف ترجمہ, صف mp3, صف pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








