کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حاصِبًا: پتھر برسانے والی ہوا، یا پتھر۔
نَذِيرِ: میرا ڈرانا، میری تنبیہ۔
تفسیرِ آیہ:
اے کفارِ مکہ! کیا تم اس ذات سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ، جو اپنی عظمت و کبریائی کے ساتھ عرش پر مستوی ہے) کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے، جیسا کہ اس نے قومِ لوط پر پتھروں کا عذاب نازل کیا تھا؟ کیا تم نے اس کے عذاب سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لیا ہے؟ یہ تمہاری نادانی ہے کہ تم اللہ کی قدرت اور اس کے عذاب سے غافل ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ" یعنی جب تم عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے، اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا، اور میری تنبیہ کس قدر سچی تھی۔ لیکن افسوس! یہ علم اس وقت تمہارے کسی کام نہ آئے گا، کیونکہ عذاب کے آجانے کے بعد توبہ اور نصیحت کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نرمی اور سختی کے انداز میں متنبہ فرما رہا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ عذاب بھیجنے سے پہلے ڈراتا ہے تاکہ لوگ باز آ جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی قدرت اور اس کے عذاب سے ڈریں، اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، لیکن اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، اور اس کے عذاب سے پہلے اس کی رحمت کی طرف رجوع کریں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔