ملک · 22/30
ترجمہ تلفظ — ملک
أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝٢٢
Afamai yamshee mukibban `alaa wajhihee ahdaaa ammany yamshee sawiyyan `alaa siratim mustaqeem
📖 اردو ترجمہ
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُکِبًّا: منہ کے بل گرتا ہوا، سر جھکائے ہوئے
  • سَوِیًّا: سیدھا، برابر، درست قامت
  • صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ: سیدھا اور ہموار راستہ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک بہت ہی خوبصورت اور واضح مثال کے ذریعے مومن اور کافر کے درمیان فرق کو بیان فرما رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا وہ شخص جو منہ کے بل چلتا ہے، سر جھکائے ہوئے، نہ اسے سمجھ آتا ہے کہ کدھر جا رہا ہے اور نہ ہی وہ راستہ دیکھ پاتا ہے، وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا وہ شخص جو سیدھا کھڑا ہو کر، برابر قامت کے ساتھ، ایک صاف اور سیدھے راستے پر چل رہا ہے؟

یہ مثال دراصل کافر اور مومن کی ہے۔ کافر کی حالت اس شخص جیسی ہے جو منہ کے بل گرا ہوا ہو اور زمین پر رینگ رہا ہو۔ ایسا شخص نہ تو آگے کا راستہ دیکھ سکتا ہے، نہ کسی رکاوٹ سے بچ سکتا ہے، اور نہ ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس سمت جا رہا ہے۔ ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے، ہر طرف سے مصیبتوں میں گھرا رہتا ہے۔ یہی حال کافر کا ہے جو اپنے نفس کی خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کی پیروی کرتا ہے، حق سے اندھا ہے، سیدھے راستے کی بصیرت سے محروم ہے، اس لیے وہ ہر وقت گمراہی اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔

اس کے برعکس مومن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو سیدھا کھڑا ہو کر، اپنے دونوں آنکھوں سے راستہ دیکھتا ہوا، ایک ہموار اور صاف ستھری شاہراہ پر چل رہا ہو۔ اسے نہ کوئی رکاوٹ روک سکتی ہے، نہ وہ ٹھوکریں کھاتا ہے، اور نہ ہی اسے راستہ بھٹکنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے اور اپنی منزل کی طرف یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

یہی حال مومن کا ہے جو قرآن اور سنت کی روشنی میں چلتا ہے، اللہ کے احکامات کو اپنے لیے مشعل راہ بناتا ہے، اور سیدھے راستے پر گامزن رہتا ہے۔ اس کی زندگی میں سکون، اطمینان اور برکت ہوتی ہے، اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہ ہم کس راستے پر چل رہے ہیں؟ کیا ہم منہ کے بل گرے ہوئے لوگوں کی طرح اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں، یا سیدھے راستے پر روشنی میں چل رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے، قرآن دیا ہے، اور سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس راستے کو پہچانیں اور اس پر چلیں۔ جو شخص سیدھے راستے پر چلے گا، وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوگا اور آخرت میں بھی، اور جو منہ کے بل چلے گا، وہ دونوں جہانوں میں نقصان اٹھائے گا۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — ملک

20أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں
21أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
22أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
23قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو
24قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے
ملکقرآن فہرست
30آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — ملک 22

سورہ ملک آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا…

سورہ آیت 22/30 — ملک الملك (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ملک سنیں, ملک ترجمہ, ملک mp3, ملک pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں