مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از ميان آنان، آن گروه كه بر خود ستم كرده بودند سخنى را كه به آنها گفته شده بود ديگر كردند. پس به كيفر ستمى كه مىكردند برايشان از آسمان عذاب فرستاديم.
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَدَّلَ: تبدیل کیا، بدل دیا۔
قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ: وہ بات جو ان سے کہی گئی تھی اس کے خلاف دوسری بات کہی۔
رِجْزًا: عذاب، سخت پکڑ۔
تفسیر:
یہ آیت بنی اسرائیل کے اس واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے جب انہیں حکم دیا گیا تھا کہ شہر (بیت المقدس) کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، عاجزی اور خشوع کے ساتھ داخل ہوں، اور یہ کہتے ہوئے داخل ہوں: "حِطَّةٌ" (یعنی اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما)۔ لیکن ان ظالموں نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی اور اس قول کو بدل دیا جو ان سے کہا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی شرارت اور استہزاء کے طور پر کہا: "حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ" (یعنی دانہ بالوں میں) — یہ ان کی طرف سے اللہ کے حکم کا مذاق اڑانا تھا۔ انہوں نے نہ صرف قول بدلا بلکہ فعل بھی بدل دیا، یعنی دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونے کے بجائے وہ الٹے پاؤں (پیچھے کی طرف) گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے۔
اس گستاخی اور سرکشی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا، جو ان کے ظلم اور نافرمانی کا براہِ راست نتیجہ تھا۔ یہ عذاب ان کی ہٹ دھرمی اور اللہ کے احکام سے کھلواڑ کرنے کی سزا تھی۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے احکام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان کے ساتھ مذاق یا استہزاء نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے حکموں کو بدلتے ہیں یا انہیں ہلکا سمجھتے ہیں، وہ اپنے لیے عذاب کا سامان کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حکمِ الٰہی کو بجالانے میں پوری عاجزی اور اطاعت کا مظاہرہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نافرمانی پر گرفت کرنے والا ہے، لیکن وہ توبہ کرنے والوں کو معاف بھی فرمانے والا ہے۔ آئیے ہم اپنے اعمال اور اقوال کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بنیں۔
اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔