اعراف · 163/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ۝١٦٣
Was`alhum `anil qaryatil latee kaanat haadiratal bahri iz ya`doona fis Sabt iz taateehim heetaanuhum yawma Sabtihim shurra`anw wa yawma laa yasbitoona laa taateehim; kazaalika nabloohum bimaa kaanoo yafsuqoon
📖 اردو ترجمہ
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حاضرۃ البحر: سمندر کے کنارے آباد بستی۔
  • یعدون: حد سے تجاوز کرتے تھے، حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
  • شرعاً: کھلے ہوئے، پانی کی سطح پر ظاہر، باہر نکلے ہوئے۔
  • لا یسبتون: جس دن وہ سبت (ہفتہ) کی تعظیم نہیں کرتے تھے۔
  • نبلوہم: ہم انہیں آزمائش میں ڈالتے ہیں۔
  • یفسقون: نافرمانی اور گناہ کا ارتکاب کرتے تھے۔

تفسیر:

اے نبی! آپ ان یہودیوں سے اس بستی کا حال دریافت کریں جو سمندر کے کنارے آباد تھی۔ یہ بستی "ایّلہ" کہلاتی تھی۔ ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کے دن (سبت) کا احترام کریں اور اس دن مچھلی کا شکار نہ کریں۔ لیکن انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور حد سے تجاوز کیا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش میں ڈالا۔ چنانچہ ہفتے کے دن مچھلیاں پانی کی سطح پر کثرت سے ابھر کر آتی تھیں، یہاں تک کہ وہ صاف نظر آتی تھیں، لیکن دوسرے دنوں میں وہ بالکل غائب ہو جاتی تھیں اور کوئی مچھلی نظر نہ آتی تھی۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آزمائے کہ وہ حکم کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔

مگر ان ظالموں نے حیلے بہانے تلاش کیے۔ وہ ہفتے کے دن جال بچھا دیتے اور گڑھے کھود لیتے، مچھلیاں ان میں پھنس جاتیں، پھر اتوار کو جا کر انہیں پکڑ لیتے۔ یوں وہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کے حکم کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے۔

یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، اور جو لوگ نافرمانی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے فسق و فجور کی پاداش میں آزمائشوں میں ڈالتا ہے تاکہ ان کا اصل حال ظاہر ہو۔

دعوتی پہلو:

اس واقعہ سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ جو لوگ اللہ کے احکام کو نظر انداز کرتے ہیں یا ان میں حیلے بہانے تلاش کرتے ہیں، وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو پوری اطاعت کے ساتھ قبول کریں اور کسی قسم کی کج روی یا حیلہ سازی سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو جانتا ہے اور ہر عمل کا حساب لے گا۔ یہ واقعہ ہمیں تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بننے کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو اس کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔



📜 آیت 161-165 — اعراف

161وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
162فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
163وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
164وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
165فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
163آیت

ترجمہ — اعراف 163

سورہ اعراف آیت 163 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب…

سورہ آیت 163/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 161–165. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں