ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حِطَّةٌ: یعنی اے اللہ! ہمارے گناہ بخش دے، یا ہمارے گناہوں کو اتار دے۔
- سُجَّدًا: جھکے ہوئے، عاجزی اور خشوع کی حالت میں۔
تفسیر:
اے نبی! اُس وقت کو یاد کرو جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اس بستی (بیت المقدس) میں داخل ہو جاؤ، اور اس کے پھلوں اور کھیتوں سے جہاں سے چاہو اور جب چاہو کھاؤ، لیکن زبان سے یہ کہتے رہنا کہ "حِطَّةٌ" یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اور دروازے سے اس حال میں داخل ہونا کہ جھکے ہوئے، عاجزی اور خشوع کے ساتھ اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم ہو۔ اگر تم نے یہ کیا تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور تمہیں مؤاخذہ نہیں کریں گے۔ اور جو لوگ نیکی اور احسان کا راستہ اختیار کریں گے، ہم انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیوں میں مزید اضافہ عطا فرمائیں گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم الشان وعدہ ہے جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا، لیکن افسوس کہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہ کی، اور کہا گیا لفظ بدل کر اپنے لیے عذاب کا سامان کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کس قدر محبت اور رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، اس سے گناہوں کی معافی مانگیں، اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اس کے حضور جھکیں۔ اللہ نے معافی کا وعدہ کیا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنے دل کو اس کے حکم کے تابع کریں۔
آج بھی ہمارے لیے یہی راستہ کھلا ہے! ہم جب بھی توبہ کریں، جھک کر اللہ سے معافی مانگیں، اور اپنے گناہوں سے باز آئیں، تو اللہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔ بلکہ وہ تو محسنین کو مزید نوازتا ہے، یعنی جو لوگ نیکی پر قائم رہتے ہیں، اللہ انہیں دنیا میں بھی کامیابی دیتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔
یاد رکھیں! اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہ ہر لمحہ ہمیں اپنی طرف بلاتا ہے، بس ضرورت ہے اس کی طرف رجوع کرنے کی، عاجزی کے ساتھ، اور اپنی زبان کو اس کے ذکر اور استغفار سے تر رکھنے کی۔
📜 آیت 159-163 — اعراف
ترجمہ — اعراف 161
سورہ آیت 161/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 159–163. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








