اعراف · 161/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِذۡ قِيلَ لَهُمُ ٱسۡكُنُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ وَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُولُواْ حِطَّةٌ وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدًا نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيٓـَٰٔتِكُمۡۚ سَنَزِيدُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ  ۝١٦١
Wa iz qeela lahumuskunoo haazihil qaryata wa kuloo minhaa haisu shi`tum wa qooloo hittatunw wadkhulul baaba sujjadan naghfir lakum khateee`aatikum; sanazeedul muhsineen
📖 اردو ترجمہ
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حِطَّةٌ: یعنی اے اللہ! ہمارے گناہ بخش دے، یا ہمارے گناہوں کو اتار دے۔
  • سُجَّدًا: جھکے ہوئے، عاجزی اور خشوع کی حالت میں۔

تفسیر:

اے نبی! اُس وقت کو یاد کرو جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اس بستی (بیت المقدس) میں داخل ہو جاؤ، اور اس کے پھلوں اور کھیتوں سے جہاں سے چاہو اور جب چاہو کھاؤ، لیکن زبان سے یہ کہتے رہنا کہ "حِطَّةٌ" یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اور دروازے سے اس حال میں داخل ہونا کہ جھکے ہوئے، عاجزی اور خشوع کے ساتھ اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم ہو۔ اگر تم نے یہ کیا تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور تمہیں مؤاخذہ نہیں کریں گے۔ اور جو لوگ نیکی اور احسان کا راستہ اختیار کریں گے، ہم انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیوں میں مزید اضافہ عطا فرمائیں گے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم الشان وعدہ ہے جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا، لیکن افسوس کہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہ کی، اور کہا گیا لفظ بدل کر اپنے لیے عذاب کا سامان کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کس قدر محبت اور رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، اس سے گناہوں کی معافی مانگیں، اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اس کے حضور جھکیں۔ اللہ نے معافی کا وعدہ کیا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنے دل کو اس کے حکم کے تابع کریں۔

آج بھی ہمارے لیے یہی راستہ کھلا ہے! ہم جب بھی توبہ کریں، جھک کر اللہ سے معافی مانگیں، اور اپنے گناہوں سے باز آئیں، تو اللہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔ بلکہ وہ تو محسنین کو مزید نوازتا ہے، یعنی جو لوگ نیکی پر قائم رہتے ہیں، اللہ انہیں دنیا میں بھی کامیابی دیتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔

یاد رکھیں! اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وہ ہر لمحہ ہمیں اپنی طرف بلاتا ہے، بس ضرورت ہے اس کی طرف رجوع کرنے کی، عاجزی کے ساتھ، اور اپنی زبان کو اس کے ذکر اور استغفار سے تر رکھنے کی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 159-163 — اعراف

159وَمِن قَوۡمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ 
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
160وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمًاۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسۡتَسۡقَىٰهُ قَوۡمُهُۥٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡحَجَرَۖ فَٱنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ ٱثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًاۖ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡۚ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡغَمَٰمَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ 
اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
161وَإِذۡ قِيلَ لَهُمُ ٱسۡكُنُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ وَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُولُواْ حِطَّةٌ وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدًا نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيٓـَٰٔتِكُمۡۚ سَنَزِيدُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
162فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡ قَوۡلًا غَيۡرَ ٱلَّذِي قِيلَ لَهُمۡ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِجۡزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَظۡلِمُونَ 
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
163وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِي ٱلسَّبۡتِ إِذۡ تَأۡتِيهِمۡ حِيتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا وَيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُونَ لَا تَأۡتِيهِمۡۚ كَذَٰلِكَ نَبۡلُوهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ 
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
161آیت

ترجمہ — اعراف 161

سورہ آیت 161/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 159–163. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں