اعراف · 33/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۝٣٣
Qul innamaa harrama Rabbiyal fawaahisha maa zahara minhaa wa maa bataa wal isma walbaghya bighairil haqqi wa an tushrikoo billaahi maa lam yunazzil bihee sultaananw wa an taqooloo `alal laahi maa laa ta`lamoon
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الفواحش: وہ بڑے گناہ جو انتہائی قبیح اور شرمناک ہوں۔
  • ما ظہر منہا وما بطن: ان گناہوں کے ظاہری اور پوشیدہ دونوں طرح کے پہلو۔
  • الإثم: ہر وہ گناہ جو اللہ کی نافرمانی پر مبنی ہو۔
  • البغی: ظلم، زیادتی، اور لوگوں پر ناحق تعدی۔
  • سلطانًا: دلیل، برہان، یا کوئی معتبر سند۔

تفسیر:

اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرما دیں جو اللہ کے حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں اور اپنی من گھڑت قاعدے بناتے ہیں کہ "میرے رب نے صرف ان چیزوں کو حرام کیا ہے جو حقیقت میں حرام ہیں۔" سب سے پہلے اللہ نے فواحش (بڑے بے حیائی اور شرمناک گناہ) کو حرام کیا ہے، چاہے وہ کھلے عام کیے جائیں جیسے زنا، چوری، شراب نوشی، یا چھپ کر کیے جائیں جیسے ریا کاری، دل کی بری نیتیں، یا خفیہ گناہ۔ اللہ کے نزدیک دونوں یکساں قابلِ سزا ہیں۔

پھر اللہ نے ہر قسم کے گناہ (اثم) کو حرام کیا، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کیونکہ گناہ دل کو سیاہ کرتا ہے اور انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ظلم اور زیادتی (بغی) کو حرام کیا، یعنی کسی کے خون، مال، عزت، یا حقوق پر ناحق حملہ کرنا، یا لوگوں پر اپنی برتری جتانا اور انہیں دبانا۔ یہ سب اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔

ساتھ ہی اللہ نے شرک کو حرام کیا، یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا، چاہے وہ بت ہوں، بزرگ ہوں، یا کوئی بھی مخلوق، جس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل یا سند نازل نہیں کی۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے کیونکہ یہ اللہ کی عظمت کے ساتھ زیادتی ہے۔

آخر میں اللہ نے اللہ کے بارے میں بلا علم باتیں کرنے کو حرام کیا، جیسے یہ کہنا کہ فلاں چیز حرام ہے یا حلال ہے جبکہ اللہ نے ایسا نہیں کہا، یا اللہ کی صفات، ناموں، اور احکام کے بارے میں من گھڑت عقیدے رکھنا، یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کا کوئی بیٹا ہے۔ یہ سب جہالت اور افترا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے کہ اس نے صرف ان چیزوں کو حرام کیا جو انسان کے لیے نقصان دہ ہیں، اور باقی سب کچھ حلال رکھا۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کی دلیل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے بتائے ہوئے حدود پر چلیں، ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچیں، اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں۔ جب ہم حرام سے بچیں گے اور حلال پر عمل کریں گے تو اللہ ہماری زندگیوں میں برکت، سکون، اور کامیابی عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ نے جو چیز حرام کی ہے وہ ہماری بھلائی کے لیے ہے، اور جو حلال کی ہے وہ ہمارے فائدے کے لیے۔ آئیے ہم اپنے رب کے احکام کو دل سے قبول کریں اور اس کی رحمت کے طالب بنیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — اعراف

31۞ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
32قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
33قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
34وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی
35يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — اعراف 33

سورہ اعراف آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں…

سورہ آیت 33/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں