پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: چه كسى لباسهايى را كه خدا براى بندگانش پديد آورده، و خوردنيهاى خوشطعم را حرام كرده است؟ بگو: اين چيزها در اين دنيا براى كسانى است كه ايمان آوردهاند و در روز قيامت نيز خاص آنها باشد. آيات خدا را براى دانايان اينچنين به تفصيل بيان مىكنيم.
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
زینة الله: وہ لباس اور آرائش کی چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیں۔
الطیبات من الرزق: حلال اور پاکیزہ کھانے پینے کی چیزیں۔
خالصة: خاص اور منفرد، جس میں کوئی شریک نہ ہو۔
تفسیر:
اے پیغمبر! ان جاہل مشرکین سے کہو جو اللہ کے حلال کردہ لباس اور کھانے کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں: "کون ہے جس نے اللہ کی زینت کو حرام کیا؟" یعنی وہ لباس جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا تاکہ وہ اسے پہنیں اور اس سے اپنے آپ کو ڈھانپیں اور خوبصورت دکھیں، اور وہ پاکیزہ روزی جو اللہ نے حلال کی ہے؟ یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہے، اسے حرام کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
پھر فرمایا: اے پیغمبر! ان سے کہو کہ یہ زینت اور پاکیزہ روزی دنیا کی زندگی میں مومنوں کے لیے ہے، البتہ اس میں کافر بھی شریک ہیں، لیکن یہ چیزیں قیامت کے دن صرف مومنوں کے لیے خاص ہوں گی، کوئی کافر ان میں شریک نہ ہوگا، کیونکہ جنت کافروں پر حرام ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے اور علم رکھتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے، یہ سختی اور تنگی کا دین نہیں۔ اللہ نے اپنے بندوں پر جو نعمتیں نازل کی ہیں، انہیں حلال جاننا اور استعمال کرنا عین عبادت ہے۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر حلال چیزوں کو حرام سمجھنا اللہ پر بہتان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کو شکر کے ساتھ استعمال کریں، حد سے تجاوز نہ کریں، اور یاد رکھیں کہ اصل کامیابی قیامت کے دن مومنوں کے لیے ہے جب وہ ان نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے لطف اندوز ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی نعمتیں استعمال کریں اور اس کے شکر گزار بندے بنیں۔
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔