Innal lazeena kazzaboo bi Aayaatinaa wastakbaroo `anhaa laa tufattahu lahum ahwaabus samaaa`i wa laa yadkhuloonal jannata hattaa yalijal jamalu fee sammil khiyaat; wa kazaalika najzil mujrimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
درهاى آسمان بر روى كسانى كه آيات ما را تكذيب كردهاند و از آنها سر برتافتهاند، گشوده نخواهد شد و به بهشت در نخواهند آمد تا آنگاه كه شتر از سوراخ سوزن بگذرد. و مجرمان را اينچنين كيفر مىدهيم.
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آیاتنا: ہماری نشانیاں، دلائل، معجزات اور احکام۔
استکبروا: تکبر کیا، ماننے سے انکار کیا۔
لا تُفَتَّحُ: نہیں کھولے جاتے۔
أبواب السماء: آسمان کے دروازے (یعنی اعمال کے چڑھنے اور دعا کی قبولیت کے دروازے)۔
یَلِج: داخل ہو جائے۔
سَمِّ الخِیاط: سوئی کا ناکا، سوئی کا سوراخ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک اعمال آسمان کی طرف نہیں چڑھتے، ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور جب وہ مرتے ہیں تو ان کی روحیں آسمان کی طرف نہیں اٹھائی جاتیں، بلکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے زمین پر اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور تکبر کیا، اس لیے آسمان بھی ان کے لیے بند ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جو بالکل ناممکن ہے، کیونکہ اونٹ بہت بڑا جانور ہے اور سوئی کا ناکا انتہائی باریک سوراخ ہے۔ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے، اسی طرح ان کا جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عدل ہے کہ جنہوں نے حق کو ماننے سے تکبر کیا، ان کے لیے جنت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسی طرح ہم مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ کفر و شرک اور گناہوں میں حد سے تجاوز کر جائیں، انہیں ایسی ہی سخت سزا دی جاتی ہے۔ یہ اللہ کا عادلانہ فیصلہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانا اور ان سے تکبر کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ہر آیت کو مانتے ہوئے اس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کریں۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو جنت سے محروم کر دیتی ہے، جبکہ عاجزی اور ایمان وہ راستہ ہے جو انسان کو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھایا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر چلیں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔