ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَضَرُّعًا: عاجزی اور انکساری کے ساتھ، گڑگڑاتے ہوئے۔
- خُفْيَةً: چپکے سے، آہستہ، پوشیدہ طور پر۔
- الْمُعْتَدِينَ: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم کرنے والے۔
تفسیر آیت:
اے ایمان والو! اپنے رب سے دعا کرو عاجزی اور انکساری کے ساتھ، اور چپکے سے یعنی آہستہ آواز میں، نہ کہ شور و غل اور ریاکاری کے ساتھ۔ دعا کا اصل مقصد اللہ کے سامنے اپنی بندگی اور محتاجی کا اظہار ہے، اس لیے دعا خشوع و خضوع کے ساتھ ہونی چاہیے، دل کی گہرائیوں سے نکلنی چاہیے، نہ کہ صرف زبان سے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں دو اہم باتیں سکھائی ہیں: ایک یہ کہ دعا عاجزی اور انکساری سے کی جائے، اور دوسری یہ کہ اسے چپکے اور پوشیدہ طور پر کیا جائے تاکہ ریا اور دکھاوے سے بچا جا سکے۔ چپکے سے کی گئی دعا میں خلوص زیادہ ہوتا ہے اور قبولیت کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں: مثلاً دعا میں بلند آواز کرنا، تکلف اور تصنع سے دعا کرنا، یا ایسی چیزیں مانگنا جو شرعاً درست نہ ہوں۔ سب سے بڑا اعتداء اور حد سے تجاوز یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جائے، جیسے مشرک لوگ بتوں، مردوں یا دوسری مخلوقات کو پکارتے ہیں۔ یہ شرک ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہرگز پسند نہیں کرتا۔
اس لیے اے مسلمانو! اپنی دعاؤں کو خالص اللہ کے لیے کرو، اس کے سامنے اپنی عاجزی اور کمزوری کا اظہار کرو، اور اس کی رحمت سے امید رکھو۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہے اور دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہے، بشرطیکہ وہ خلوص کے ساتھ اسے پکارے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا ایک عظیم عبادت ہے، اور اس کی روح خلوص اور عاجزی ہے۔ جب ہم چپکے سے، دل کی گہرائیوں سے اللہ کو پکاریں گے، تو ہمارے دل میں اللہ کی محبت اور اس پر بھروسہ بڑھے گا، اور ہماری دعائیں قبولیت کے قریب ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی دعاؤں میں خلوص اور ادب عطا فرمائے اور ہمیں حد سے تجاوز کرنے سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 53-57 — اعراف
ترجمہ — اعراف 55
سورہ آیت 55/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








