اعراف · 55/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ  ۝٥٥
Ud`oo Rabbakum tadarru`anw wa khufyah; innahoo laa yuhibbul mu`tadeen
📖 اردو ترجمہ
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَضَرُّعًا: عاجزی اور انکساری کے ساتھ، گڑگڑاتے ہوئے۔
  • خُفْيَةً: چپکے سے، آہستہ، پوشیدہ طور پر۔
  • الْمُعْتَدِينَ: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم کرنے والے۔

تفسیر آیت:

اے ایمان والو! اپنے رب سے دعا کرو عاجزی اور انکساری کے ساتھ، اور چپکے سے یعنی آہستہ آواز میں، نہ کہ شور و غل اور ریاکاری کے ساتھ۔ دعا کا اصل مقصد اللہ کے سامنے اپنی بندگی اور محتاجی کا اظہار ہے، اس لیے دعا خشوع و خضوع کے ساتھ ہونی چاہیے، دل کی گہرائیوں سے نکلنی چاہیے، نہ کہ صرف زبان سے۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں دو اہم باتیں سکھائی ہیں: ایک یہ کہ دعا عاجزی اور انکساری سے کی جائے، اور دوسری یہ کہ اسے چپکے اور پوشیدہ طور پر کیا جائے تاکہ ریا اور دکھاوے سے بچا جا سکے۔ چپکے سے کی گئی دعا میں خلوص زیادہ ہوتا ہے اور قبولیت کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں: مثلاً دعا میں بلند آواز کرنا، تکلف اور تصنع سے دعا کرنا، یا ایسی چیزیں مانگنا جو شرعاً درست نہ ہوں۔ سب سے بڑا اعتداء اور حد سے تجاوز یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جائے، جیسے مشرک لوگ بتوں، مردوں یا دوسری مخلوقات کو پکارتے ہیں۔ یہ شرک ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہرگز پسند نہیں کرتا۔

اس لیے اے مسلمانو! اپنی دعاؤں کو خالص اللہ کے لیے کرو، اس کے سامنے اپنی عاجزی اور کمزوری کا اظہار کرو، اور اس کی رحمت سے امید رکھو۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہے اور دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہے، بشرطیکہ وہ خلوص کے ساتھ اسے پکارے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا ایک عظیم عبادت ہے، اور اس کی روح خلوص اور عاجزی ہے۔ جب ہم چپکے سے، دل کی گہرائیوں سے اللہ کو پکاریں گے، تو ہمارے دل میں اللہ کی محبت اور اس پر بھروسہ بڑھے گا، اور ہماری دعائیں قبولیت کے قریب ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی دعاؤں میں خلوص اور ادب عطا فرمائے اور ہمیں حد سے تجاوز کرنے سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 53-57 — اعراف

53هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأۡوِيلَهُۥۚ يَوۡمَ يَأۡتِي تَأۡوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُواْ لَنَآ أَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ قَدۡ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ 
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
54إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثًا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ 
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
55ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ 
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
56وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفًا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
57وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ 
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
55آیت

ترجمہ — اعراف 55

سورہ آیت 55/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں