اعراف · 56/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفًا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ  ۝٥٦
Wa laa tufsidoo fil ardi ba`da islaahihaa wad`oohu khawfanw wa tama`aa; inna rahmatal laahi qareebum minal muhsineen
📖 اردو ترجمہ
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تُفْسِدُوا: فساد پھیلانا، خرابی کرنا۔
  • إِصْلَاحِهَا: اس کی اصلاح، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو جس طرح درست اور بہتر بنایا ہے۔
  • خَوْفًا وَطَمَعًا: خوف (عذاب سے ڈرتے ہوئے) اور طمع (ثواب کی امید رکھتے ہوئے
  • قَرِيبٌ: قریب، نزدیک۔ (یہاں "رحمة" کے ساتھ مذکر صیغہ استعمال ہوا ہے، جس سے مراد رحمت کا وسیع دائرہ اور اس کی قربت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس آیت میں دو اہم ہدایات دیتا ہے: پہلی یہ کہ زمین پر فساد نہ پھیلائیں، اور دوسری یہ کہ اللہ سے دعا کریں۔

زمین پر فساد کی بہت سی صورتیں ہیں: ظلم و زیادتی، شرک، قتل و خونریزی، رشوت، چوری، بدکاری، اور معاشرتی بگاڑ۔ یہ سب فساد کی قسمیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنی رحمت سے اس طرح بنایا ہے کہ اس میں امن، عدل اور بھلائی قائم رہے۔ اس نے انبیاء علیہم السلام بھیج کر لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا، اور احکام شرعیہ نازل کر کے زمین کو آباد کیا۔ جب انسان اس نظام کے خلاف کام کرتا ہے، تو وہ اس اصلاح کے بعد فساد برپا کرتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس سے دعا کرو، خوف اور امید کے ساتھ۔ یعنی اپنے گناہوں پر ڈرو، اس کے عذاب سے خوف کرو، اور ساتھ ہی اس کی رحمت اور ثواب کی امید رکھو۔ دعا صرف اللہ سے کرو، کسی اور سے نہیں۔ دعا کا یہ انداز ہو کہ دل میں خشیت ہو، عاجزی ہو، اور یقین ہو کہ اللہ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے کہ اس کی رحمت محسنین (نیکی کرنے والوں) کے قریب ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے اعمال میں اخلاص رکھتے ہیں، اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں، اور زمین پر اصلاح کرتے ہیں، ان پر اللہ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے۔ یہ رحمت ان کے قریب ہے، جیسے کوئی چیز قریب ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد زمین پر فساد نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، اپنے معاشرے، اور اپنے ملک میں امن و امان قائم کرے، عدل کو فروغ دے، اور ظلم و برائی سے بچے۔ جب ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں تو ہمیں خوف اور امید دونوں کا توازن رکھنا چاہیے — خوف اس لیے کہ ہم کہیں اس کی نافرمانی نہ کریں، اور امید اس لیے کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں محسنین میں شامل کرتا ہے، اور محسنین کے لیے اللہ کی رحمت یقینی ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت پر عمل کریں، زمین پر امن قائم کریں، اور اللہ سے خوف و امید کے ساتھ دعا کرتے رہیں۔ اللہ ہمیں محسنین میں شامل فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 54-58 — اعراف

54إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثًا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ 
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
55ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ 
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
56وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفًا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
57وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ 
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
58وَٱلۡبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَٱلَّذِي خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ إِلَّا نَكِدًاۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٍ يَشۡكُرُونَ 
جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
56آیت

ترجمہ — اعراف 56

سورہ آیت 56/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 54–58. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں