ترجمہ — Tafsir
ویلٌ یومئذٍ للمکذبین
معانی الفاظ:
"وَیْلٌ" کا مطلب ہے ہلاکت، عذاب اور شدید سزا۔ "یَوْمَئِذٍ" یعنی اس دن (قیامت کے دن)۔ "لِلْمُکَذِّبِینَ" یعنی جھٹلانے والوں کے لیے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا ذکر فرما رہے ہیں۔ "ویل" ایک ایسا لفظ ہے جو عذاب اور ہلاکت کے شدید ترین معنی رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب تمام لوگ اپنے اعمال کے مطابق جزا پائیں گے۔ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکت اور عذاب ہے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، قیامت کے آنے کا انکار کیا، اور اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو سن کر بھی اسے قبول نہ کیا، اور باطل پر جمے رہے۔ ان کے لیے اس دن عذاب، خسران اور رسوائی ہے۔ یہ آیت ایک شدید تنبیہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام بہت برا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے ایک زبردست انتباہ ہے جو حق کو جانتے ہوئے بھی اس سے منہ موڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے تاکہ وہ دنیا میں ہی سنبھل جائیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں قرآن جیسی کتاب عطا کی جو ہمیں راہِ راست دکھاتی ہے۔ آئیے ہم اس تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اور اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس دن کی تیاری کریں جب کوئی عمل ضائع نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — مرسلات
ترجمہ — مرسلات 37
سورہ مرسلات آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہےسورہ آیت 37/50 — مرسلات المرسلات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مرسلات سنیں, مرسلات ترجمہ, مرسلات mp3, مرسلات pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








