ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَبْصَارُهَا: اس کی آنکھیں (یعنی اہلِ قلوب کی آنکھیں)
- خَاشِعَةٌ: ذلیل، جھکی ہوئی، خوف سے نیچی
تفسیر:
قیامت کے دن کافروں کے دل شدید خوف اور گھبراہٹ سے مضطرب ہوں گے، اور ان کی آنکھیں ذلت اور رسوائی سے نیچی جھکی ہوئی ہوں گی۔ وہ منظر جو ان کے سامنے ہوگا، اس کی ہولناکی سے ان کی بصارتیں خاشع اور ذلیل ہو جائیں گی۔ یہ حالت اس شخص کی ہوتی ہے جو اپنے انجام سے خوفزدہ ہو اور اسے یقین ہو کہ اب کوئی بچاؤ ممکن نہیں۔
یہاں "أَبْصَارُهَا" سے مراد ان لوگوں کی آنکھیں ہیں جن کے دل پہلے ہی خوف سے لرز رہے ہوں گے۔ جب دل ڈر جائے تو آنکھیں خود بخود جھک جاتی ہیں، نگاہیں نیچی ہو جاتی ہیں، اور چہرے پر ذلت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جو قرآن نے دوسرے مقام پر بیان کی: "اور آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوگی" (القلم: 43)۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار ہونے کا سبق دیتی ہے۔ اگر آج ہم اپنے رب کے سامنے اپنے گناہوں پر شرمندہ نہیں ہوتے، تو اس دن ہماری ذلت یقینی ہے۔ لیکن رحمتِ الٰہی کا دروازہ ابھی کھلا ہے — جو آج اپنے خالق کے سامنے خشوع و خضوع سے جھک جائے، اللہ اسے اس دن کی رسوائی سے بچا لے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے، اللہ اسے بلند کرتا ہے" (مسلم)۔ آئیے ہم اپنی آنکھوں کو حرام سے بچائیں، اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے تر کریں، تاکہ اس دن ہماری آنکھیں خوف سے نہیں بلکہ اللہ کے دیدار کی لذت سے جھکی ہوں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کا خوف عارضی ہے، لیکن آخرت کا خوف ہمیشہ کا ہے — مگر اس خوف کے بعد مومن کے لیے ابدی سکون ہے۔
📜 آیت 7-11 — نازعات
ترجمہ — نازعات 9
سورہ نازعات آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور آنکھیں جھکی ہوئیسورہ آیت 9/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








