انفال · 75/75
ترجمہ تلفظ — انفال
وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَٰئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۝٧٥
Wallazeena aamanoo mim ba`du wa haajaroo wa jaahadoo ma;akum faulaaa`ika minkum; wa ulul arhaami baduhum awlaa biba`din fee Kitaabil laah; innal laaha bikulli shai`in `Aleem
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُولُو الْأَرْحَامِ: قرابت دار والے رشتہ دار۔
  • أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ: ایک دوسرے کے زیادہ حقدار۔
  • فِي كِتَابِ اللَّهِ: اللہ کے حکم اور فیصلے میں۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مومنین کا ذکر فرما رہے ہیں جو پہلے ہجرت کرنے والوں اور انصار کے بعد ایمان لائے، ہجرت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی تمہاری ہی جماعت سے ہیں، اے مومنین! ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو تمہارے لیے ہیں، اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو تم پر ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حکم بیان فرماتے ہیں کہ رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اللہ کے حکم میں۔ یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جو لوگ آپس میں بھائی چارے کا عقد کر لیتے تھے اور ایک دوسرے کے وارث بن جاتے تھے، یہ حکم اسے منسوخ کرتا ہے۔ اب وراثت صرف قرابت اور رشتہ داری کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ ایمان، ہجرت یا بھائی چارے کی بنیاد پر۔

اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لیے دیا کیونکہ وہ اپنے بندوں کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نقصان دہ۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو مسلسل ترقی اور اصلاح پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی مصلحت کے پیش نظر احکام میں تبدیلی فرمائی، تاکہ معاشرہ بہتر سے بہتر ہوتا رہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور حکمت کی نشانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ضروریات اور حالات کے مطابق احکام نازل فرماتا ہے۔

آئیے ہم سب اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داریوں کو اتنی اہمیت دی ہے کہ وراثت کا پورا نظام اسی پر قائم کیا۔ کیا ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ یہ آیت ہمیں رشتہ داریوں کی قدر کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام پر مکمل بھروسہ کریں، چاہے ہماری سمجھ میں اس کی حکمت پوری طرح نہ آئے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-75 — انفال

73وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ
اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا
74وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے
75وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَٰئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
75آیت

ترجمہ — انفال 75

سورہ انفال آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے…

سورہ آیت 75/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 73–75. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں