ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ثانی اثنین: دو میں سے دوسرا، یعنی دو افراد میں سے ایک۔
- الغار: پہاڑ کا غار، خاص طور پر غارِ ثور۔
- سکینہ: طمانیت، دل کا سکون اور اطمینان۔
- جنود: لشکر، فوجیں۔
- السفلی: نیچی، پست۔
- العلیا: بلند، اعلیٰ۔
تفسیر آیت:
اے ایمان والو! اگر تم رسول اللہ ﷺ کی نصرت نہیں کرو گے اور جہاد کے لیے نکلنے میں ان کا ساتھ نہیں دو گے، تو یہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کی مدد فرمائی ہے، چاہے تم مدد کرو یا نہ کرو۔ اللہ کی مدد کا انحصار تمہاری مدد پر نہیں ہے۔
اس کی واضح مثال وہ وقت ہے جب کفارِ مکہ نے نبی کریم ﷺ کو وطن سے نکال دیا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ اپنے رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، صرف دو افراد تھے، اور وہ بھی غارِ ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ کفار ان کی تلاش میں ان کے سر پر کھڑے تھے، مگر اللہ کی مدد ان کے ساتھ تھی۔
اس نازک موقع پر نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو، جو شدید پریشانی اور خوف میں مبتلا تھے، تسلی دیتے ہوئے فرمایا: "غم نہ کھو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔" یہ الفاظ ایمان کی طاقت اور یقینِ کامل کا مظہر تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سکینہ نازل فرمائی، یعنی دل کو طمانیت عطا کی، اور ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے، یعنی فرشتوں سے۔ انہوں نے کفار کو آپ ﷺ کی طرف دیکھنے سے روک دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے کافروں کا بول بالا ہونے سے روک دیا اور ان کی بات کو نیچا دکھایا، جبکہ اللہ کا کلمہ، یعنی اسلام کا پیغام اور توحید کی دعوت، ہمیشہ کے لیے بلند اور سربلند رہی۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے، کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا، اور وہ حکیم ہے، ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت ہے، کیونکہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ غار میں تھے اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نبی کی حفاظت کی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ اور یقینِ کامل ہی اصل طاقت ہے، اور جب اللہ کسی کی مدد کرتا ہے تو کوئی طاقت اس کے مقابل نہیں آ سکتی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے سبق ہے کہ اللہ پر بھروسہ کریں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں۔ نبی ﷺ جب غار میں تھے تو ظاہری اعتبار سے خطرہ بہت بڑا تھا، مگر اللہ پر یقین نے انہیں پرسکون رکھا۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں اللہ پر توکل کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی اصل مددگار ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اسلام کی سربلندی اللہ کے وعدے سے ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہے گا، اور یہی ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔
📜 آیت 38-42 — توبہ
ترجمہ — توبہ 40
سورہ توبہ آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا…سورہ آیت 40/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







