Fa a`qabahum nifaaqan fee quloobihim ilaa Yawmi yalqaw nahoo bimaaa akhlaful laaha maa wa`adoohu wa bimaa kaanoo yakhziboon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و از آن پس تا روزى كه همراه با آن خلف وعده با خدا و آن دروغها كه مىگفتند با او ملاقات كنند، دلهايشان را جاى نفاق ساخت.
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَأَعْقَبَهُمْ: پھر ان کا انجام اور نتیجہ یہ ہوا۔
نِفَاقًا: منافقت، دکھاوا، دل میں کفر چھپا کر ظاہر میں ایمان کا اظہار۔
إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ: اس دن تک جب وہ اللہ سے ملیں گے، یعنی قیامت کے دن تک۔
بِمَا أَخْلَفُوا: اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف ورزی کی۔
مَا وَعَدُوهُ: جو وعدہ انہوں نے اللہ سے کیا تھا (صدقہ دینے اور نیک بننے کا)۔
يَكْذِبُونَ: جھوٹ بولتے تھے (اپنے ایمان کے دعوے میں)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کے اس فعل کا انجام یہ قرار دیا کہ ان کے دلوں میں نفاق کو ثابت اور پختہ کر دیا، یہاں تک کہ یہ نفاق ان کے دلوں میں قیامت کے دن تک باقی رہے گا، جب وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔ یہ سزا انہیں اس لیے ملی کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا (کہ اگر اللہ انہیں اپنے فضل سے مال دے گا تو وہ صدقہ کریں گے اور نیک بن جائیں گے) اسے توڑ دیا، اور اس کے علاوہ وہ اپنے ایمان کے دعوے میں بھی جھوٹے تھے، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان تھا ہی نہیں۔
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے کہ اللہ سے کیا گیا وعدہ ایک امانت ہے، جسے پورا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو شخص اللہ سے وعدہ کر کے اسے توڑتا ہے، اس کا انجام نفاق اور دل کی سختی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں، اپنے قول اور فعل میں سچائی اختیار کریں، اور نفاق سے بچیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ سچے اور صادق لوگوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو نفاق سے پاک کریں اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو سچائی اور خلوص پر استوار کریں۔
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔