لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آتَاهُم: انہیں دیا
مِّن فَضْلِهِ: اپنے فضل و کرم سے
بَخِلُوا: انہوں نے بخل کیا، کنجوسی کی
تَوَلَّوا: وہ منہ موڑ گئے
مُعْرِضُونَ: اعراض کرنے والے، روگردانی کرنے والے
تفسیر آیت:
جب اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو اپنے فضل و کرم سے مال و دولت عطا فرمائی، تو انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کیا، صدقہ و خیرات سے کنجوسی کی، اور اللہ سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ وہ اپنے اموال کو روکے رکھا اور اللہ کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔ پھر وہ اسلام اور ایمان سے منہ موڑ گئے، اور اس طرح روگردانی کرتے ہوئے چلے گئے جیسے انہیں کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ ہمیشہ حق سے اعراض کرتے تھے، چاہے انہیں کتنی ہی نعمتیں مل جائیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ جب ہمیں مال و دولت اور نعمتیں عطا فرماتا ہے، تو ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے راستے میں خرچ کرنا چاہیے۔ بخل اور کنجوسی انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ یاد رکھیں! جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے اور زیادہ دیتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، وہ ایک امانت ہے، اور اس میں سے دوسروں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ آئیے ہم اللہ کے فضل کا شکر ادا کریں اور اپنے مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ بخیلوں کو پسند نہیں فرماتا، بلکہ وہ سخیوں اور فیاضوں سے محبت کرتا ہے۔
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔