ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عَبْدًا: بندہ، یعنی اللہ کا بندہ۔
- إِذَا صَلَّىٰ: جب وہ نماز پڑھے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس شخص (ابوجہل) کے بارے میں بتا رہا ہے جو اپنے رب کی عبادت کرنے والے بندے (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز ادا کرتے تو ابوجہل آکر آپ کو روکتا اور ڈراتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس طرز عمل کو انتہائی قبیح قرار دے رہے ہیں، کیونکہ بندے کا اصل کام اپنے رب کی عبادت کرنا ہے، اور کسی کو اس عبادت سے روکنا انتہائی برا فعل ہے۔ یہاں "عبد" کا لفظ تنکیر کے ساتھ آیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بندہ کوئی عام بندہ نہیں بلکہ اللہ کا برگزیدہ بندہ ہے، اور اسے نماز سے روکنا اس سے بھی زیادہ قبیح فعل ہے۔
فوائد:
- نماز عبادت کا سب سے اہم ذریعہ ہے، اور اسے ادا کرنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
- ظالم لوگ اگرچہ عارضی طور پر کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے خوب واقف ہے اور وہ آخرت میں اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔
- یہ آیت مسلمانوں کو صبر و استقامت کا درس دیتی ہے کہ وہ نماز جیسی عظیم عبادت کو کسی کے ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے ترک نہ کریں۔
- اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
📜 آیت 8-12 — علق
ترجمہ — علق 10
سورہ علق آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہےسورہ آیت 10/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








