یونس · 16/109
ترجمہ تلفظ — یونس
قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُم بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝١٦
Qul law shaaa`al laahu maa talawtuhoo `alaikum wa laaa adraakum bihee faqad labistu feekum `umuram min qablih; afalaa ta`qiloon
📖 اردو ترجمہ
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَبِثْتُ: میں رہا، قیام کیا۔
  • عُمُرًا: ایک پوری عمر، یعنی چالیس سال۔
  • أَدْرَاكُم بِهِ: تمہیں اس (قرآن) سے باخبر کیا، تم تک پہنچایا۔
  • أَفَلَا تَعْقِلُونَ: کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟

تفسیر:

اے نبیِ مکرم! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ کی نبوت اور قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ قرآن تمہارے سامنے ہرگز نہ پڑھتا، اور نہ ہی اللہ تمہیں اس کے ذریعے سے باخبر کرتا۔ یہ قرآن میری اپنی طرف سے نہیں ہے، نہ میں نے اسے خود گھڑا ہے اور نہ ہی میری اپنی مرضی سے یہ تم تک پہنچا ہے، بلکہ یہ خالصتاً اللہ کا حکم اور اس کی مشیت ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس ہدایت سے محروم رکھتا اور تم اپنی گمراہی پر ہی رہتے۔

اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تم خود جانتے ہو کہ میں تمہارے درمیان اس قرآن کے نزول سے پہلے ایک پوری عمر (چالیس سال) گزار چکا ہوں۔ میری زندگی کا کوئی حصہ تمہیں معلوم ہے جس میں میں نے پڑھا لکھا ہو، یا کوئی کتاب پڑھی ہو، یا شعر و خطابت کا کوئی دعویٰ کیا ہو، یا تم سے کبھی اس قسم کی کوئی بات کی ہو۔ میری سابقہ زندگی تمہارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں نہ پڑھتا تھا، نہ لکھتا تھا، اور نہ ہی مجھے اس قسم کے علوم سے کوئی سروکار تھا۔ پھر جب اچانک یہ قرآن میرے پاس آیا، تو کیا تمہاری عقل کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ کسی انسان کی ایجاد نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ جو شخص چالیس سال تک اس قسم کی کوئی بات نہ کرے، اور پھر ایک دم ایسا کلام پیش کرے جو عرب کے تمام فصحاء و بلغاء کو عاجز کر دے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اس کی اپنی طاقت سے ہو؟ ہرگز نہیں!

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اس کی صداقت کے لیے خود نبی اکرم ﷺ کی پاکیزہ زندگی گواہ ہے۔ آپ کی امی ہونا، آپ کا چالیس سال تک کسی بھی علمی یا ادبی کام میں مشغول نہ ہونا، اور پھر اچانک ایسا معجزاتی کلام پیش کرنا، یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عقل و فکر سے کام لیں، قرآن پر غور کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے، اللہ اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے! ہم سب اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کی روشنی میں ڈھالیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 14-18 — یونس

14ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِن بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو
15وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے
16قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُم بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
17فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
18وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
16آیت

ترجمہ — یونس 16

سورہ یونس آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ…

سورہ آیت 16/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں