Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَبِثْتُ: میں رہا، قیام کیا۔
- عُمُرًا: ایک پوری عمر، یعنی چالیس سال۔
- أَدْرَاكُم بِهِ: تمہیں اس (قرآن) سے باخبر کیا، تم تک پہنچایا۔
- أَفَلَا تَعْقِلُونَ: کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ کی نبوت اور قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ قرآن تمہارے سامنے ہرگز نہ پڑھتا، اور نہ ہی اللہ تمہیں اس کے ذریعے سے باخبر کرتا۔ یہ قرآن میری اپنی طرف سے نہیں ہے، نہ میں نے اسے خود گھڑا ہے اور نہ ہی میری اپنی مرضی سے یہ تم تک پہنچا ہے، بلکہ یہ خالصتاً اللہ کا حکم اور اس کی مشیت ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس ہدایت سے محروم رکھتا اور تم اپنی گمراہی پر ہی رہتے۔
اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تم خود جانتے ہو کہ میں تمہارے درمیان اس قرآن کے نزول سے پہلے ایک پوری عمر (چالیس سال) گزار چکا ہوں۔ میری زندگی کا کوئی حصہ تمہیں معلوم ہے جس میں میں نے پڑھا لکھا ہو، یا کوئی کتاب پڑھی ہو، یا شعر و خطابت کا کوئی دعویٰ کیا ہو، یا تم سے کبھی اس قسم کی کوئی بات کی ہو۔ میری سابقہ زندگی تمہارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں نہ پڑھتا تھا، نہ لکھتا تھا، اور نہ ہی مجھے اس قسم کے علوم سے کوئی سروکار تھا۔ پھر جب اچانک یہ قرآن میرے پاس آیا، تو کیا تمہاری عقل کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ کسی انسان کی ایجاد نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ جو شخص چالیس سال تک اس قسم کی کوئی بات نہ کرے، اور پھر ایک دم ایسا کلام پیش کرے جو عرب کے تمام فصحاء و بلغاء کو عاجز کر دے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اس کی اپنی طاقت سے ہو؟ ہرگز نہیں!
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اس کی صداقت کے لیے خود نبی اکرم ﷺ کی پاکیزہ زندگی گواہ ہے۔ آپ کی امی ہونا، آپ کا چالیس سال تک کسی بھی علمی یا ادبی کام میں مشغول نہ ہونا، اور پھر اچانک ایسا معجزاتی کلام پیش کرنا، یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عقل و فکر سے کام لیں، قرآن پر غور کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے، اللہ اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے! ہم سب اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کی روشنی میں ڈھالیں۔
📜 آیت 14-18 — سورہ یونس
ترجمہ — یونس 16
سورہ یونس آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ…سورہ آیت 16/109 — سورہ یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ یونس سنیں, سورہ یونس ترجمہ, سورہ یونس mp3, سورہ یونس pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, September 30, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


