ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْفَرَاشِ: پروانے، وہ کیڑے جو روشنی یا آگ کی طرف بے تحاشا لپکتے ہیں۔
- الْمَبْثُوثِ: منتشر، بکھرے ہوئے، ادھر ادھر بکھرے ہوئے۔
تفسیر:
اس دن (یعنی قیامت کے دن جب لوگوں کے دل دہشت سے پھٹنے لگیں گے) لوگ اس طرح ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پروانے ہوتے ہیں۔ جس طرح پروانے بے مقصد ادھر ادھر بھٹکتے ہیں، کسی سمت کا تعین نہیں ہوتا، اسی طرح قیامت کے دن لوگ شدید گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے بے ترتیب ادھر ادھر بھاگیں گے۔ وہ اس قدر پریشان ہوں گے کہ نہ انہیں اپنا راستہ معلوم ہوگا اور نہ ہی کسی کو پہچان سکیں گے۔ یہ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ جس طرح پروانے جب اڑتے ہیں تو ایک سمت میں نہیں جاتے بلکہ ہر ایک الگ سمت بھٹکتا ہے، اسی طرح قیامت کے دن لوگ حشر کی ہولناکی سے اس قدر بدحواس ہوں گے کہ ہر شخص ایک الگ سمت بھاگے گا، کسی کو کسی کی فکر نہ ہوگی۔ یہ منظر اس دن کی عظیم ہیبت اور دہشت کو ظاہر کرتا ہے جب تمام انسان اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔
فوائد:
- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن انتہائی ہولناک دن ہوگا، جس کی شدت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
- یہ آیت انسان کو آخرت کی فکر کرنے کی تلقین کرتی ہے کہ وہ اس دن کی تیاری کرے۔
- اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے، اس لیے انسان کو دنیا میں نیک اعمال کرنے چاہئیں۔
- یہ تشبیہ انسان کو اللہ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ وہ کس طرح تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
📜 آیت 2-6 — قارعہ
ترجمہ — قارعہ 4
سورہ آیت 4/11 — قارعہ القارعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قارعہ سنیں, قارعہ ترجمہ, قارعہ mp3, قارعہ pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








