خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: اى نوح، او از خاندان تو نيست، او عملى است ناصالح. از سر ناآگاهى از من چيزى مخواه. برحذر مىدارم تو را كه از مردم نادان باشى.
خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ: تیرے اہلِ ایمان میں سے نہیں ہے۔
عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ: یہ (سوال) ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔
فَلَا تَسْأَلْنِ: مجھ سے سوال نہ کر۔
مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ: جس کا تجھے علم نہیں۔
أَعِظُكَ: میں تجھے نصیحت کرتا ہوں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت نوح علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے نوح! یہ (تمہارا بیٹا جو غرق ہو گیا) تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، یعنی ان لوگوں میں سے نہیں جن کے نجات کی میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ اس لیے کہ وہ کافر تھا اور ایمان سے محروم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ تمہارا یہ سوال (کہ اسے بچا لیا جائے) کوئی صالح عمل نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے مقامِ نبوت کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پھر اللہ نے نوح علیہ السلام کو نصیحت فرمائی کہ ایسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی تقدیر کیا ہے اور اس کی حکمت کیا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہیں اس بات سے ڈراتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ، یعنی ایسے سوالات نہ کرو جو اللہ کے علم اور حکمت کے خلاف ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عدل دونوں کامل ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی، لیکن اللہ نے انہیں سمجھایا کہ رشتہ داری نجات کا معیار نہیں، بلکہ ایمان اور عملِ صالح ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک بہترین نصیحت ہے کہ ہم اپنے اعمال پر توجہ دیں، نہ کہ صرف نسب اور رشتوں پر بھروسہ کریں۔ نیز یہ کہ اللہ سے دعا کرتے وقت ہمیں ادب اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے، اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ جو فیصلہ کرتا ہے وہی بہتر ہوتا ہے، چاہے ہماری سمجھ میں نہ آئے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی مشیت پر راضی رہنا اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی مومن کی شان ہے۔
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا
حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔