Wa naadaa noohur Rabbahoo faqaala Rabbi innabnee min ahlee wa inna wa`dakal haqqu wa Anta ahkamul haakimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
نوح پروردگارش را ندا داد: اى پروردگار من، پسرم از خاندان من بود و وعده تو حق است و نيرومندترين حكمكنندگان تو هستى.
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نادیٰ: پکارا، آواز دی۔
ربی: اے میرے رب! (نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا)
ابن: بیٹا۔
من اہلی: میرے گھر والوں میں سے۔
وعدک الحق: تیرا وعدہ سچا ہے۔
احکم الحاکمین: سب حاکموں سے بڑا حاکم، سب سے زیادہ فیصلہ کرنے والا۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کو طوفان میں ڈوبتے دیکھا تو ان کا باپ کا دل پسیج گیا اور انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ انہوں نے عرض کیا: "اے میرے رب! میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے، اور آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں اپنے اہل کو بچا لوں گا۔ آپ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے، اس میں کوئی خلاف نہیں ہو سکتا۔ اور آپ سب فیصلہ کرنے والوں سے بڑے فیصلہ کرنے والے ہیں، آپ کا فیصلہ عدل پر مبنی ہوتا ہے۔"
یہ دعا حضرت نوح علیہ السلام نے اس وقت کی جب وہ اپنے بیٹے کی نجات کے لیے اللہ سے التجا کر رہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ یہ بیٹا عمل کے اعتبار سے آپ کے اہل میں سے نہیں ہے، کیونکہ نجات کا معیار ایمان اور عمل صالح ہے، نہ کہ صرف نسب۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت ہمیں اپنی حاجت بیان کرنی چاہیے اور اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو اس کے وعدے کی یاد دلائی، اور یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ سے دعا میں اصرار کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کا فیصلہ ہی بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہیں، کیونکہ وہی سب سے بڑا حاکم ہے اور اس کا فیصلہ عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دعا کے وقت اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا ذکر کرنا بہت پسندیدہ ہے، جیسے نوح علیہ السلام نے "وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ" کہہ کر اللہ کی حاکمیت اور عدل کا اعتراف کیا۔
اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔