اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَمْرُنَا: ہمارا حکم، یعنی عذاب کا حکم۔
نَجَّيْنَا: ہم نے نجات دی، بچا لیا۔
بِرَحْمَةٍ مِّنَّا: اپنی خاص رحمت اور فضل سے۔
عَذَابٍ غَلِيظٍ: سخت اور بھاری عذاب۔
تفسیر:
جب ہمارا حکم آیا کہ قومِ عاد پر عذاب نازل ہو، تو ہم نے اپنی خاص رحمت اور فضل سے حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ یہ نجات ان کے ایمان اور اللہ کی رحمت کا نتیجہ تھی، نہ کہ ان کی اپنی طاقت کا۔ ہم نے انہیں اس سخت اور بھاری عذاب سے بچا لیا جو کافروں پر نازل ہوا تھا، اور وہ عذاب ایسا تھا کہ قومِ عاد کی کوئی باقی نہ بچی۔
یہ آیت مومنوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے اور انہیں مصیبتوں سے نجات دیتا ہے۔ جب بندہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور اس کے رسول کی اتباع کرتا ہے، تو اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے انہیں جھٹلایا اور ایمان نہ لائی، لیکن اللہ نے اپنے نبی اور مومنین کو بچا لیا۔
یہ سبق ہمارے لیے ہے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اور ایمان و تقویٰ کو اپنائیں۔ اللہ کی رحمت مومنوں کے شاملِ حال رہتی ہے، اور وہ انہیں ہر مشکل سے نکال دیتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت ہی وہ چیز ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔
میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے، بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر ہے
اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے
تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔