Wala`in akhkharnaa `anhumul `azaaba ilaaa ummatim ma`doodatil la yaqoolunna maa yahbisuh; alaa yawma yaateehim laisa masroofan `anhum wa haaqa bihim maa kaanoo bihee yastahzi`oon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اگر چندگاهى عذابشان را به تأخير بيفكنيم مىپرسند: چه چيز مانع آن شده است؟ آگاه باشيد چون عذابشان فرا رسد، آن را باز نگردانند، و آنچه مسخرهاش مىكردند آنان را در بر خواهد گرفت.
اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ: ایک مقررہ اور محدود مدت، جس کا وقت اللہ کے علم میں ہے۔
مَا يَحْبِسُهُ: کون سی چیز اسے روکے ہوئے ہے؟ یعنی عذاب کیوں نہیں آتا؟
مَصْرُوفًا: ٹالا ہوا، دفع کیا ہوا۔
حَاقَ: احاطہ کر لیا، گھیر لیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی قومِ عاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ہم ان مشرکوں سے عذاب کو ایک مقررہ اور محدود مدت تک مؤخر کر دیں، تو وہ اپنی جلد بازی اور استہزا کے طور پر کہتے ہیں: "آخر اس عذاب کو کون سی چیز روکے ہوئے ہے؟ اگر یہ عذاب سچ ہے تو ہم پر کیوں نہیں آتا؟" وہ اس طرح طنزاً عذاب کی جلدی ملاتے ہیں، حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ اللہ کی مشیت میں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "سن لو! جس دن وہ عذاب ان کے پاس آئے گا، اس دن وہ ان سے ٹالا نہیں جا سکے گا، نہ کوئی اسے دفع کر سکے گا، اور وہ عذاب جو وہ مذاق میں مانگ رہے تھے، انہیں ہر طرف سے گھیر لے گا۔" یعنی ان کا استہزا ہی ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا، اور جب عذاب آئے گا تو کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی برحق ہے، لیکن وہ اپنے بندوں پر عذاب جلدی نہیں بھیجتا، بلکہ انہیں توبہ اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ ہمیں اللہ کی مہلت کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اپنے گناہوں سے باز آنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے وعدوں کو جھٹلاتے ہیں اور استہزا کرتے ہیں، وہ آخرت میں اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔ اللہ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن اس کی گرفت بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عذاب کی جلدی نہ کریں، بلکہ اپنی زندگیوں کو سنواریں اور اللہ کی اطاعت میں مشغول ہو جائیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا عذاب آنے پر کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔
اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے
اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی
اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔