نحل · 75/128
ترجمہ تلفظ — نحل
۞ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۝٧٥
Darabal laahu masalan `abdam mammlookal laa yaqdiru `alaa shai`inw wa marrazaqnaahu mminnaa rizqan hasanan fahuwa yunfiqu minhu sirranw wa jahra; hal yasta-woon; alhamdu lillaah; bal aksaruhum laa ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عبداً مملوکاً: غلام جو کسی کا ملکیت ہو، جسے اپنی ذات پر بھی اختیار نہ ہو۔
  • لا یقدر علی شیء: کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو، نہ مال کا مالک ہو نہ تصرف کا اہل۔
  • رزقاً حسناً: پاکیزہ اور حلال مال جو اللہ کی طرف سے عطا ہو۔
  • سراً و جہراً: چھپے اور کھلے طور پر، ہر حال میں۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک بہت واضح اور سچا مثال بیان فرمائی ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ شرک کتنی بڑی جہالت ہے۔ فرمایا: ایک شخص ایسا ہے جو غلام ہے، کسی کے قبضے میں ہے، اس کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ اختیار، نہ کچھ دینے کی طاقت۔ دوسرا شخص ایسا ہے جو آزاد ہے، اللہ نے اسے اپنے فضل سے حلال اور پاکیزہ مال عطا کیا ہے، اور وہ اس مال میں سے چھپے اور کھلے، ہر طرح خرچ کرتا ہے، اپنے اہل و عیال پر، غریبوں پر، راہِ خدا میں۔ اب کیا کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ یہ دونوں برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔

یہی حال ہے اللہ اور ان بتوں کا جنہیں مشرک پوجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سارے جہان کا خالق ہے، مالک ہے، رزق دینے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہی عبادت کا حق دار ہے۔ اور یہ بت، یہ معبود، نہ کچھ پیدا کر سکتے ہیں، نہ کسی کو رزق دے سکتے ہیں، نہ اپنے پوجنے والوں کے کسی کام آ سکتے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "الحمد للہ" یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، کیونکہ وہی حمد و ثنا کا مستحق ہے، اس کی نعمتیں ہیں، اس کا فضل ہے، اس کی رحمت ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں، اسی لیے وہ اللہ کی نعمتوں کو اس کے سوا دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر انہیں علم ہوتا تو وہ صرف اللہ کے بندے بنتے، صرف اسی سے مدد مانگتے، اور صرف اسی کی عبادت کرتے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں دیکھیں، اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے — مال، اولاد، صحت، علم، وقت — یہ سب اس کی امانت ہے۔ ہم اسے اسی طرح خرچ کریں جس طرح وہ آزاد اور سمجھدار شخص خرچ کرتا ہے، یعنی اللہ کی رضا کے لیے، چھپے اور کھلے، ہر حال میں۔ اور یاد رکھیں کہ جو شخص اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ کبھی نقصان میں نہیں رہتا، بلکہ اللہ اسے اور زیادہ دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل سے شرک اور بت پرستی کو نکال دیں، اور صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوں، کیونکہ وہی ہے جو سنتا ہے، دیتا ہے، اور مدد کرتا ہے۔ جب ہم یہ سمجھ لیں گے تو ہماری زندگی میں برکتیں آئیں گی، اور ہم اللہ کے محبوب بندے بن جائیں گے۔



📜 آیت 73-77 — نحل

73وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ
اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں
74فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
75۞ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے
76وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟
77وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — نحل 75

سورہ نحل آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام…

سورہ آیت 75/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں