ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال بیان فرمائی ہے جو شرک کی بطلان کو واضح کرتی ہے۔ وہ مثال دو آدمیوں کی ہے:
پہلا آدمی: گونگا، بہرا اور اندھا ہے، نہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے، نہ سمجھ سکتا ہے۔ وہ کسی بھی کام کی طاقت نہیں رکھتا، نہ اپنے فائدے کے لیے کچھ کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کے لیے۔ وہ اپنے آقا اور کفیل پر بوجھ ہے، جہاں بھی اسے بھیجا جائے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، نہ کوئی کام سرانجام دے سکتا ہے۔
دوسرا آدمی: جو سننے، بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خود بھی راہ راست پر ہے اور دوسروں کو بھی عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے، لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا ہے اور وہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! عقل سلیم والا شخص ان دونوں کو کبھی برابر نہیں کہہ سکتا۔
یہ مثال دراصل مشرکین کے لیے ہے جو بےجان، بےسمع اور بےبصر بتوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جو ہر کام پر قادر ہے، سننے والا، دیکھنے والا، بولنے والا اور اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔ وہی عدل کا حکم دیتا ہے اور اپنے بندوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، کیا کوئی عقلمند انسان کبھی ایک گونگے، بہرے اور بےبس شخص کو ایک صاحبِ علم، صاحبِ بصیرت اور راہِ راست پر چلنے والے انسان کے برابر کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اسی طرح اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے برابر قرار دینا کتنی بڑی جہالت ہے۔
یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں جو حقیقی طور پر سننے والا، دیکھنے والا، قدرت رکھنے والا اور ہماری ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔ وہی اللہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق دیا اور ہمیں سیدھا راستہ دکھایا۔ اس کی عبادت ہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو تازہ کریں اور صرف اسی کی عبادت کریں، کیونکہ وہی حقیقی معبود ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
📜 آیت 74-78 — نحل
ترجمہ — نحل 76
سورہ آیت 76/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








